Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6268

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَسُ الْكُفْرِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ وَالْفَدَّادِينَ أَهْلِ الْوَبَرِ وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأس الكفر نحو المشرق والفخر والخيلاء في أهل الخيل والإبل والفدادين أهل الوبر والسكينة في أهل الغنم (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کہ کفر کا سرا مشرق کی طرف ہے ۱ ∞ ؎اور فخر و غرور سے رہنے والے اونٹ گھوڑے والوں میں ۲؎اور خیمے میں رہنے والے شور مچانے والوں میں ۳؎اوراطمینان بکری والوں میں ہے۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎مشرق سے مراد یا تو ملک فارس ہے یا مدینہ منورہ کا شرقی علاقہ جہاں سے دجال نکلے گا یا اس سے مراد نجد کا علاقہ ہے کہ وہاں سے فرقہ وہابیہ پیدا ہوا۔(مرقات،اشعہ)نجد یوں سے اسلام کو بڑے نقصانات پہنچے ان کے حملے اہل اسلام پر ہوئے۔
۲
؎گھوڑے والوں اونٹ والوں کے معنی ابھی عرض کیے گئے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اکثر انسان جب گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں تو دل میں کچھ فخر آجاتا ہے۔(مرقات)غالبًا یہاں نفسانی لوگ مراد ہوں گے ورنہ گھوڑے اور اونٹ کی سواری سنت ہے، رب فرماتاہے:"وَ اَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسْتَطَعْتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الْخَیۡلِ
۳
؎وبرکہتے ہیں بھیڑ کی اون کو یہاں مراد اونی خیمے ہیں۔بدوی لوگ اکثر جنگلوں میں اونی خیموں میں رہتے ہیں اہل وبر سے وہ ہی مراد ہیں۔فدادبمعنی شور مچانے والا یعنی بدوی اور بادیہ نشین لوگوں میں فخروتکبر زیادہ ہوتا ہے جو خیموں میں جنگل میں رہتے ہیں جانور چراتے ہیں ان کے پیچھے شور مچاتے ہیں ان تک علم کی روشنی بہت کم پہنچتی ہے،اب بھی عرب کے بادیہ نشین بدویوں میں یہ دیکھا جارہا ہے۔
۴
؎اس لیے اکثر انبیاءکرام نے بکریاں چرائی ہیں اس سے ملک رانی سیکھنے میں مدد بھی ملتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6268