- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 8
- فضائل کا بیان
- حدیث نمبر 6271
باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6271
فضائل کا بیان - جلد 8
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهٗ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ
وعن ابن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا» . قالوا: يا رسول الله وفي نجدنا؟ فأظنه قال في الثالثة: «هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان» . رواه البخاري
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے ۱∞؎الٰہی ہمارے یمن میں برکت دے۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہمارے نجد میں ۳؎فرمایا الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے الٰہی ہم کو ہمارے یمن میں برکت دے۴؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور ہمارے نجد میں مجھے خیال ہے کہ تیسری بار میں فرمایا ۵؎کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے۶؎اور وہاں شیطانی گروہ نکلے گا ۷؎(بخاری)
شرح حدیث
۱∞؎یعنی خدایا ہمارے شام کے مسلمانوں کے دین و دنیا میں برکتیں عطا۔فرما شام کو یمن پر اس لیے مقدم فرمایا کہ شام ہی میں قیامت قائم ہوگی،وہ ہی فلسطین سے متصل ہے اور فلسطین میں بیت المقدس عمان وغیرہ واقع ہیں،چہل ابدال وہاں ہی رہتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ بھی شام ہی کا ایک شہر ہے بہرحال شام بہت افضل علاقہ ہے۔
۲؎یمن حضرت اویس قرنی کا وطن ہے وہاں کا ایمان وہاں کی حکمت حضور صلی الله علیہ و سلم کو پسند ہے۔بعض لوگوں نے فرمایا کہ مکہ معظمہ یمن کا ایک شہر ہے یمن ولیوں کا علاقہ ہے،اہل مدینہ کے لیے اکثر غلے دانہ یمن سے آیا کرتے ہیں۔ (مرقات)
۳؎اس عرض میں درخواست دعا ہے یعنی یاحبیب الله ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کریں۔
۴؎مکہ معظمہ حضور کی ولادت گاہ ہے مدینہ منورہ حضور کی دفن گاہ ہے،یہ دونوں شہر یمن اور شام سے خاص تعلق رکھتے ہیں اس لیے خاص طور پر ان دونوں علاقوں کے لیے خصوصیت سے دعائیں فرمائی جاری ہیں۔(مرقات)
۵؎یعنی مجھے اس میں شک ہے کہ حضور انور نے دوسری بار میں یہ اگلا کلام ارشاد فرمایا یا تیسری بار میں اس فرمان عالی میں ترددوشک نہیں ہے بلکہ اس میں تردد ہے کہ کس وقت فرمایا۔
۶؎نجد عرب کا پانچواں مشہور صوبہ ہے یہ ایسا منحوس خطہ ہے کہ حضور رحمت عالمین صلی الله علیہ و سلم کی ایسی دعا سے محروم رہا دعابھی ایسے جوش کے وقت کی یعنی نجد کا خطہ میری دعا کے لائق نہیں اس خطہ کے مقدر میں فتنے زلزلے ہیں۔چنانچہ پہلے خوارج اور مرتدین نجد سے نکلے پھر عراق سے پھر فارس پھر خراسان سے پھر تاتار سے۔(حاشیہ اشعۃ اللمعات)زلزلے سے مراد ظاہر زلزلے بھی ہیں اور دلوں کے زلزلے انقلابات بھی۔(مرقات)
۷؎قرنکے بہت معنی ہیں: ساتھی،سینگ،گروہ یہاں بمعنی گروہ ہے۔حضور فرماتے ہیںخیر القرون قرنییعنی نجد سے شیطانی گروہ نکلے گا،چنانچہ وہاں سے عبدالوہاب نجدی اور اس کے متبعین یعنی وہابی فرقہ نکلا جس کے فتنے آج بھی دنیا کو ہلائے ڈالتے ہیں۔بعض وہابی کہتے ہیں کہ یہاں نجد سے مراد کوئی اونچی جگہ ہے یہ مشہور علاقہ مراد نہیں۔یہ تاویل ایسی ہے جیسے مرزا قادیانی کہتا ہے کہ"یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"میں احمد سے مراد میں غلام احمد ہوں یا مسیح سے مراد میں مسیح قادیاں ہوں جیسے وہ تحریف ہے ایسے ہی یہ تحریف ہے۔جب یمن و شام سے خاص علاقے مراد ہیں یعنی مشہور شام یمن ہیں ایسے ہی نجد سے مراد بھی وہ ہی مشہور علاقہ ایسے معانی کرنے سے قرآن و حدیث سے ایمان اٹھ جاوے گا"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"سے دعا مراد لے لو"اٰتُوا الزَّکٰوۃَ"میں زکوۃ سے مراد صفائی پاکی لے لو سارے شرعی احکام ختم ہوجائیں گے۔نعوذ باللهیا قرن بمعنی شیطان کا سینگ ہےیطلعسے یہی معلوم ہوتا ہے۔نجدیوں کو شیطان کا سینگ فرمانے کی تین وجہیں ہیں: (۱)سینگ والے جانور کے سارے جسم سے سخت تر سینگ ہی ہوتے ہیں یہ ٹولہ بھی انبیاء اولیاء کی عداوت میں شیطان سے سخت ہے کیونکہ شیطان نے کہا تھا کہ میں سب کو بہکاؤں گا سوائے تیرے محبوبوں کے"اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ"مگر یہ فرقہ ہمیشہ نبیوں ولیوں کے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے۔(۲)ہمیشہ سینگ والا جانور سینگوں ہی سے لڑتا ہے کہ سامنے والے کے مقابل سینگ کرتا ہے خود پیچھے سے سینگوں پر زور لگاتا ہے"تَؤُزُّهُمْ اَزًّا"۔(۳)سینگ والا جانور جب کسی گھر میں گھستا ہے تو پہلے سینگ داخل کرتا ہے باقی اعضاء بعد میں شیطان دوزخ میں پہلے ان کو داخل کرے گا پیچھے خود جائے گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6271