Main Icon

باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎ - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 6271

فضائل کا بیان - جلد 8

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ وَفِي نَجْدِنَا؟ فَأَظُنُّهٗ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: «هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ» . رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعن ابن عمر قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا» . قالوا: يا رسول الله وفي نجدنا؟ فأظنه قال في الثالثة: «هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان» . رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی الله علیہ و سلم نے الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے ۱∞؎الٰہی ہمارے یمن میں برکت دے۲؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله ہمارے نجد میں ۳؎فرمایا الٰہی ہم کو ہمارے شام میں برکت دے الٰہی ہم کو ہمارے یمن میں برکت دے۴؎لوگوں نے عرض کیا یارسول الله اور ہمارے نجد میں مجھے خیال ہے کہ تیسری بار میں فرمایا ۵؎کہ وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے۶؎اور وہاں شیطانی گروہ نکلے گا ۷؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خدایا ہمارے شام کے مسلمانوں کے دین و دنیا میں برکتیں عطا۔فرما شام کو یمن پر اس لیے مقدم فرمایا کہ شام ہی میں قیامت قائم ہوگی،وہ ہی فلسطین سے متصل ہے اور فلسطین میں بیت المقدس عمان وغیرہ واقع ہیں،چہل ابدال وہاں ہی رہتے ہیں، بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مدینہ منورہ بھی شام ہی کا ایک شہر ہے بہرحال شام بہت افضل علاقہ ہے۔
۲
؎یمن حضرت اویس قرنی کا وطن ہے وہاں کا ایمان وہاں کی حکمت حضور صلی الله علیہ و سلم کو پسند ہے۔بعض لوگوں نے فرمایا کہ مکہ معظمہ یمن کا ایک شہر ہے یمن ولیوں کا علاقہ ہے،اہل مدینہ کے لیے اکثر غلے دانہ یمن سے آیا کرتے ہیں۔ (مرقات)
۳
؎اس عرض میں درخواست دعا ہے یعنی یاحبیب الله ہمارے نجد کے لیے بھی برکت کی دعا کریں۔
۴
؎مکہ معظمہ حضور کی ولادت گاہ ہے مدینہ منورہ حضور کی دفن گاہ ہے،یہ دونوں شہر یمن اور شام سے خاص تعلق رکھتے ہیں اس لیے خاص طور پر ان دونوں علاقوں کے لیے خصوصیت سے دعائیں فرمائی جاری ہیں۔(مرقات)
۵
؎یعنی مجھے اس میں شک ہے کہ حضور انور نے دوسری بار میں یہ اگلا کلام ارشاد فرمایا یا تیسری بار میں اس فرمان عالی میں ترددوشک نہیں ہے بلکہ اس میں تردد ہے کہ کس وقت فرمایا۔
۶
؎نجد عرب کا پانچواں مشہور صوبہ ہے یہ ایسا منحوس خطہ ہے کہ حضور رحمت عالمین صلی الله علیہ و سلم کی ایسی دعا سے محروم رہا دعابھی ایسے جوش کے وقت کی یعنی نجد کا خطہ میری دعا کے لائق نہیں اس خطہ کے مقدر میں فتنے زلزلے ہیں۔چنانچہ پہلے خوارج اور مرتدین نجد سے نکلے پھر عراق سے پھر فارس پھر خراسان سے پھر تاتار سے۔(حاشیہ اشعۃ اللمعات)زلزلے سے مراد ظاہر زلزلے بھی ہیں اور دلوں کے زلزلے انقلابات بھی۔(مرقات)
۷
؎قرنکے بہت معنی ہیں: ساتھی،سینگ،گروہ یہاں بمعنی گروہ ہے۔حضور فرماتے ہیںخیر القرون قرنییعنی نجد سے شیطانی گروہ نکلے گا،چنانچہ وہاں سے عبدالوہاب نجدی اور اس کے متبعین یعنی وہابی فرقہ نکلا جس کے فتنے آج بھی دنیا کو ہلائے ڈالتے ہیں۔بعض وہابی کہتے ہیں کہ یہاں نجد سے مراد کوئی اونچی جگہ ہے یہ مشہور علاقہ مراد نہیں۔یہ تاویل ایسی ہے جیسے مرزا قادیانی کہتا ہے کہ"یَّاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعْدِی اسْمُہٗۤ اَحْمَدُ"میں احمد سے مراد میں غلام احمد ہوں یا مسیح سے مراد میں مسیح قادیاں ہوں جیسے وہ تحریف ہے ایسے ہی یہ تحریف ہے۔جب یمن و شام سے خاص علاقے مراد ہیں یعنی مشہور شام یمن ہیں ایسے ہی نجد سے مراد بھی وہ ہی مشہور علاقہ ایسے معانی کرنے سے قرآن و حدیث سے ایمان اٹھ جاوے گا"اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ"سے دعا مراد لے لو"اٰتُوا الزَّکٰوۃَ"میں زکوۃ سے مراد صفائی پاکی لے لو سارے شرعی احکام ختم ہوجائیں گے۔نعوذ باللهیا قرن بمعنی شیطان کا سینگ ہےیطلعسے یہی معلوم ہوتا ہے۔نجدیوں کو شیطان کا سینگ فرمانے کی تین وجہیں ہیں: (۱)سینگ والے جانور کے سارے جسم سے سخت تر سینگ ہی ہوتے ہیں یہ ٹولہ بھی انبیاء اولیاء کی عداوت میں شیطان سے سخت ہے کیونکہ شیطان نے کہا تھا کہ میں سب کو بہکاؤں گا سوائے تیرے محبوبوں کے"اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیۡنَ"مگر یہ فرقہ ہمیشہ نبیوں ولیوں کے پیچھے ہی پڑا رہتا ہے۔(۲)ہمیشہ سینگ والا جانور سینگوں ہی سے لڑتا ہے کہ سامنے والے کے مقابل سینگ کرتا ہے خود پیچھے سے سینگوں پر زور لگاتا ہے"تَؤُزُّهُمْ اَزًّا"۔(۳)سینگ والا جانور جب کسی گھر میں گھستا ہے تو پہلے سینگ داخل کرتا ہے باقی اعضاء بعد میں شیطان دوزخ میں پہلے ان کو داخل کرے گا پیچھے خود جائے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 8 , حدیث نمبر: 6271