Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4256

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ فَعَرَضَ عَلَيْنَا فَقُلْنَا: لَا نَشْتَهِيهِ. قَالَ: «لَا تَجْتَمِعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن أسماء بنت يزيد قالت: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بطعام فعرض علينا فقلنا: لا نشتهيه. قال: «لا تجتمعن جوعا وكذبا» . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہیں حضرت اسماء بنت یزید سے ۱؎فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لایا گیا تو حضور نے ہم پر پیش فرمایا ہم نے عرض کیا ہم کو خواہش نہیں ۲؎فرمایا بھوک اور جھوٹ جمع نہ کرو ۳؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎آپ اسماء بنت یزید ابن سکن ہیں،انصاریہ صحابیہ ہیں،بہت عاقلہ بہادر تھیں،جنگ یرموک میں حاضر ہوئیں، خیمہ کی چوب سے نو کافر مارے۔(اشعہ)
۲
؎یعنی رسم کے مطابق ہم نے کہہ دیا کہ ہم کو بھوک نہیں کھانے کی خواہش نہیں۔
۳
؎یعنی اگر کھانے کی خواہش ہو تو کھالو ایسا نہ ہو کہ خواہش ہو تو مگر خلاف واقعہ کہہ دو کہ ہم کو خواہش نہیں۔اس میں دنیاوی نقصان بھی ہے اور کھانے سے محرومی بھی اور دینی نقصان بھی ہے جھوٹ کا گناہ بھی۔بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ نہ تو کھانے والا جھوٹی تواضع کرے نہ آنے والا جھوٹا تکلف۔اگر کھانے والے کے پاس کافی ہو تو کہے کہ آؤ کھالو ورنہ نہ کہے یہ ہی آنے والے کو چاہیے کہ اگر خواہش ہو تو بیٹھ جائے کھالے ورنہ معذرت کردے اسلام میں تکلف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4256