Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4248

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ أَرَأَيْتَ إِنْ مَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَلَمْ يُقِرْنِي وَلَمْ يُضِفْنِي ثُمَّ مَرَّ بِي بَعْدَ ذٰلِكَ أَأَقْرِيهِ أَمْ أَجْزِيهِ؟ قَالَ: « بَلْ أَقْرِهِ » . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن أبي الأحوص الجشمي عن أبيه قال: قلت: يا رسول الله أرأيت إن مررت برجل فلم يقرني ولم يضفني ثم مر بي بعد ذلك أأقريه أم أجزيه؟ قال: « بل أقره » . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوالاحوص جشمی سے ۱؎وہ اپنے باپ سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ فرمایئے تو اگر میں کسی شخص پرگزروں تو نہ وہ میری مہمانی کرے نہ مجھے دعوت دے پھر وہ مجھ پر اس کے بعد گزرے تو میں اسے مہمان بناؤں یا بدلہ لوں فرمایا بلکہ مہمان بناؤ ۲؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام عوف ابن مالک ابن نفر ہے،تابعی ہیں،حضرت عبداللہ ابن مسعود کے ساتھیوں میں سے ہیں،حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ رہے اور قتال خوارج میں شہید ہوئے۔(اشعہ،مرقات)
۲
؎یعنی اگر اس نے تمہارے ساتھ بے مروتی کی ہے تم اس سے بے مروتی نہ کرو ،برائی کا بدلہ بھلائی سے کرو،اس کو حق مہمانی دو،رب تعالیٰ فرماتاہے:"اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ هِیَ اَحْسَنُ"۔شعر
بدی رابدی سہل باشد جزا اگر مردی
احسن الی من اساء

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4248