Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4245

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يُقْرُونَنَا فَمَا تَرٰى؟ فَقَالَ لَنَا: «إِنْ نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا فَانْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّالضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُم»(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عقبة بن عامر قال: قلت للنبي صلى الله عليه وسلم: " إنك تبعثنا فننزل بقوم لا يقروننا فما ترى؟ فقال لنا: «إن نزلتم بقوم فأمروا لكم بما ينبغي للضيف فاقبلوا فان لم يفعلوا فخذوا منهم حقالضيف الذي ينبغي لهم»(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آپ ہم کو بھیجتے ہیں ۱؎توہم ایسی قوم پراترے ہیں جو ہماری مہمانی نہیں کرتی تو حضور کیا حکم دیتے ہیں ۲؎تب ہم سے فرمایا کہ اگر تم کسی قوم پر اترو پھر وہ تمہارے لیے وہ دیں جو مہمانوں کے لیے مناسب ہے تو قبول کرلو ۳؎اگر نہ کریں تو ان سے مہمان کا وہ حق لے لو جو مہمانوں کو مناسب ہے۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎جہاد کے لیے یا کسی جگہ نمائندہ بناکر نمائندگی کرنے کے لیے۔
۲
؎یعنی راستے میں منزل بہ منزل ٹھہرتے ہوئے جاتے ہیں ہم کو کھانے پینے کی بھی ضرورت ہوتی ہے،وہاں کے باشندے بے مروتی کرتے ہوئے ہماری بات بھی نہیں پوچھتے۔
۳
؎ضیفواحد و جمع دونوں کو کہا جاتا ہے،قرآن کریم میں ہے"ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَ
۴
؎یہ فرمان عالی تو اس کافر قوم کے متعلق ہے جن سے مسلمانوں کا معاہدہ ہوتا تھا کہ ہماری فوج کو تمہیں راشن دینا ہوگا،اب اگر وہ یہ وعدہ پورا نہ کریں تو جبرًا پورا کرایا جائے یا حالت مخمصہ کا ذکر ہے جب کہ مسافر بھوک سے مررہا ہو تو جبرًا دوسرے سے مال لےکر بقدرضرورت کھاسکتا ہے،ورنہ دوسرے کا مال بغیر اس کی رضا مندی استعمال کرنا جائز نہیں۔(مرقات)لہذا یہ حدیث اس آیت کریمہ کے خلاف نہیں"یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ"نہ ان احادیث کے خلاف ہے جن میں ڈکیتی اور کسی کا مال چھین لینے سے منع فرمایا گیا۔بعض نے فرمایا کہ یہ حکم شروع اسلام میں تھا جب کہ امیروں پر فقیروں کی دستگیری واجب،بعض شارحین نے فرمایا کہ ایک دن کی مہمانی میزبان پر واجب ہے،وہ اس حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں مگر جمہور کا یہ قول نہیں اور ان شارحین کایہ استدلال کمزور ہے،اگر مہمانی واجب بھی ہو تو یہ جبرًا اس سے وصول کرنا کیسے درست ہوا،زکوۃ دینا مالداروں پر فرض ہے مگر فقراء کو حق نہیں کہ ان کا مال جبرًا چھین لیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4245