Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4250

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ وَمَثَلُ الْإِيمَانِ كَمَثَلِ الْفَرَسِ فِي آخِيَّتِهٖ يَجُولُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلٰى آخِيَّتِهٖ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَسْهُو ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى الإِيمَانِ فَأَطْعِمُوا طَعَامَكُمُ الْأَتْقِيَاءَ وَأُوْلُوا مَعْرُوفَكُمُ الْمُؤْمِنِينَ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» وَأَبُو نُعَيْمٍ فِي الْحِلْيَةِ

وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «مثل المؤمن ومثل الإيمان كمثل الفرس في آخيته يجول ثم يرجع إلى آخيته وإن المؤمن يسهو ثم يرجع إلى الإيمان فأطعموا طعامكم الأتقياء وأولوا معروفكم المؤمنين» . رواه البيهقي في «شعب الإيمان» وأبو نعيم في الحلية

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو سعید سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے راوی فرمایا کہ مؤمن اور ایمان کی مثال گھوڑے کی سی ہے اپنی رسی میں جو گھومتا ہے پھر اپنی رسی کی طرف لوٹ آتا ہے ۱؎اور مؤمن بھول جاتا ہے پھر ایمان کی طرف لوٹ آتا ہے ۲؎تو تم اپنا کھانا پرہیزگاروں کو کھلاؤ اور نیکو کار مؤمنوں کو ۳؎(بیہقی شعب الایمان)ابو نعیم فی الحلیۃ

شرح حدیث

۱∞؎آخیہاس لمبی رسی کو کہتے ہیں جس کا ایک کنارہ میخ میں بندھا ہوا دوسرا گھوڑا کے پاؤں میں ہو درمیان رسی کو ز مین میں دبادیا ہو،اگر گھوڑا کھل جاوے تو گھوم پھرکر پھر اپنے تھان پر آجاتا ہے اس رسی کو اردو میں تھان کہتے ہیں۔
۲
؎یعنی مؤمن بھی بھول چوک میں گناہ کے آس پاس گھوم آتا ہے پھر رحمت خداوندی دستگیری کرتی ہے اور اپنے ٹھکانے پر آجاتا ہے توبہ کرلیتا ہے۔شعر
تال سوکھ پربھٹ ہوا اور ہنسا کہیں نہ جائیں باندھیں پچھلی پربت کے اور کنکر چن چن کھائیں
خیال رہے کہ جیسا بھاگا ہوا گھوڑا جب واپس آتا ہے تو مالک اسے نکالتا نہیں فورًا باندھ لیتا ہے یوں ہی ہم جیسے بھگوڑے گنہگار بندے جب بارگاہ الٰہی میں توبہ کرتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں تو وہ رب کریم ہم کو فورًا قبول فرمالیتا ہے نکالتا نہیں مگر شرط یہ ہی ہے کہ تعلق اس سے قائم رکھیں۔
۳
؎یعنی کوشش کرو کہ تمہارا کھانا اللہ کے نیک بندے کھائیں تاکہ تم کو نیکی کی طرف رجوع کرنے کی جلد توفیق ملتی رہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4250