Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4251

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ يَحْمِلُهَا أَرْبَعَةُ رِجَالٍ يُقَالُ لَهَا: الْغَرَّاءُ فَلَمَّا أَضْحَوْا وَسَجَدُوا الضُّحٰى أُتِيَ بِتِلْكَ الْقَصْعَةِ وَقَدْ ثُرِدَ فِيهَا فَالْتَفُّوا عَلَيْهَا فَلَمَّا كَثَرُوا جَثَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَاهٰذِهِ الجِلْسَةُ؟فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللّٰهَ جَعَلَنِي عَبْدًا كَرِيمًا وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا عَنِيدًا» ثُمَّ قَالَ: «كُلُوا مِنْ جَوَانِبِهَا وَدَعُوا ذِرْوَتَهَا يُبَارَكْ فِيهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن عبد الله بن بسر قال: كان للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يحملها أربعة رجال يقال لها: الغراء فلما أضحوا وسجدوا الضحى أتي بتلك القصعة وقد ثرد فيها فالتفوا عليها فلما كثروا جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعرابي: ماهذه الجلسة؟فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا» ثم قال: «كلوا من جوانبها ودعوا ذروتها يبارك فيها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداللہ ابن بسر سے ۱؎فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پیالہ تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے جسے غراء کہا جاتا تھا ۲؎تو جب چاشت پڑھ لیتے تو یہ پیالہ لایا جاتا تھا اس میں ثرید بنایا ہوا ہوتا تھا۳؎لوگ اس پر جمع ہوجاتے تھے پھر جب زیادہ ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکڑوں بیٹھ گئے ۴؎تو ایک بدوی نے کہا یہ بیٹھک کیسی ہے ۵؎تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھے کرم والا بندہ بنایا ہے اور مجھے سرکش متکبر نہیں بنایا ۶؎پھر فرمایا کہ اس کے کناروں سے کھاؤ درمیان کو چھوڑ دو اس میں برکت دی جائے گی ۷؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ سلمٰی مازنی ہیں،آپ خود اور آپ کے والد بسر،والدہ عطیہ اور بھائی بہن سب صحابیہ وصحابی ہیں،شام میں مقام حمص میں رہے،وہاں وضو کرتے ہوئے اچانک فوت ہوئے ۸۸؁∞ اھ ٹھاسی ہجری میں،آپ شام کے آخری صحابی ہیں۔
۲
؎غراءمؤنث ہےاغرہکا بمعنی روشن چمکدار۔
۳
؎اکثر یہ ثرید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہوتا تھا ان تمام نمازیوں کے لیے جو نماز اشراق یا چاشت پڑھتے پھر حاضر ہوتے،مشائخ کرام کے درباریوں کے لنگروں کے لیے یہ حدیث اصل ہے۔یہ حضور کا لنگر تھا کبھی صحابہ کرام بھی اس پیالے میں اپنے کھانے شامل کردیا کرتے تھے جیساکہ بعض احادیث میں ہے جیسے آج بعض اہل توفیق بزرگوں کے لنگر کے لیے کچھ نذرانہ پیش کردیتے ہیں اس کی اصل بھی یہ ہی حدیث ہے،اب بھی ماہ رمضان میں بعض اہل مدینہ افطار سحری کے وقت مسجد نبوی شریف میں لنگر لگاتے ہیں اور بعض اہلِ خیر اس لنگر میں کچھ چندہ اپنی خوشی سے دیتے ہیں،میں نے خود جناب الحاج غلام حسین مدنی کے لنگر میں سحریاں کھائی ہیں،اللہ پھر نصیب کرے۔
۴
؎یعنی لوگ اتنے زیادہ ہونے لگے کہ جگہ تنگ ہوگئی حضور انور نے اس تنگی کی وجہ سے اکڑوں کھانا کھایا مگر الگ کھانا منظور نہ فرمایا سب کے ساتھ ہی کھایا یہ ہے کرم کریمانہ۔شعر
عجز اللہ رے تمہارا کہ شہ کل ہو مگر زندگی تم نے غریبوں میں گزاری ساری
۵
؎ان بدوی صاحب نے متکبرین کے طور طریقے دیکھے تھے کہ وہ نشست و برخاست میں بڑی شان و شکوہ ظاہر کرتے ہیں،وہ حضور انور کی یہ سادگی دیکھ کر حیران رہ گئے تعجب سے پوچھا کہ اللہ اکبر یہ شان اور یہ عجز و انکسار اور تواضع۔
۶
؎یعنی مجھے اللہ تعالی نے کریم سخی و بندہ بنایا ہے۔میں چاہتا ہوں کہ میری ہر ادا سے میری بندگی ظاہر ہو اور یہ بیٹھک اظہار بندگی کے لیے بہت ہی مناسب ہے دوسری نشستیں بڑائی ظاہر کرتی ہیں۔
۷
؎یعنی اے میرے ساتھیو! پیالہ کے کناروں سے اپنے اپنے آگے سے کھاؤ بیچ پیالہ سے نہ کھاؤ کہ بیچ پیالہ میں برکت اترتی ہے وہاں سے کناروں تک پہنچتی ہے،اگر تم نے بیچ سے کھانا شروع کردیا تو وہاں برکت آنا بند ہو جائے،غرضیکہ برکت اترنے کی جگہ اور ہے اور برکت لینے کی جگہ کچھ اور۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4251