Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4249

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلٰى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهٗ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهٗ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ

وعن أنس أو غيره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن على سعد بن عبادة فقال: «السلام عليكم ورحمة الله» فقال سعد: وعليكم السلام ورحمة الله ولم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم حتى سلم ثلاثا ورد عليه سعد ثلاثا ولم يسمعه فرجع النبي صلى الله عليه وسلم فاتبعه سعد فقال: يا رسول الله بأبي أنت وأمي ما سلمت تسليمة إلا وهي بأذني: ولقد رددت عليك ولم أسمعك أحببت أن أستكثر من سلامك ومن البركة ثم دخلوا البيت فقرب له زبيبا فأكل نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغ قال: «أكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة وأفطر عندكم الصائمون» . رواه في شرح السنة

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس یا ان کے سوا سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ابن عبادہ کے ہاں اجازت چاہی تو فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو حضرت سعد نے کہا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ سنایا حتی کہ حضور نے تین بار سلام کیا ۲؎اور حضور کو سعد نے جواب دیا سنایا نہیں ۳؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے ۴؎تو جناب سعد حضور کے پیچھے گئے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ۵؎حضور نے کوئی سلام نہ کیا مگر وہ میرے کان میں پہنچا اور میں نے حضور کا جواب دیا آپ کو نہ سنایا میں نے چاہا کہ آپ کا سلام اور برکت زیادہ حاصل کرلوں ۶؎پھر وہ سب گھر میں آئے حضور کی خدمت میں کشمش پیش کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھالی ۷؎پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا کھانا نیکوں نے کھایا ۸؎تم پر فرشتوں نے دعاء رحمت کی ۹؎اور تمہارے پاس روزہ داروں نے افطاری کی ۱۰؎(شرح السنہ)

شرح حدیث

۱∞؎بعض روایات میں ہےعن انسبغیر شک و تردد کے۔
۲
؎ملاقات کو جانے والا تین بار سلام کرے: ایک سلام اجازت،دوسرا سلام ملاقات،تیسرا سلام رخصت۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سلام اجازت کے دروازے کے باہر سے کہے تاکہ صاحبِ خانہ اندر آنے کی اجازت دیں حضرت سعد نے جواب دیا مگر آہستہ کہ حضور اقدس تک آواز نہ پہنچے جس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ انہوں نے اس بہانہ سے حضور کے سلام بار بار لینے کی کوشش کی۔
۳
؎خیال رہے کہ یہاں حضرت سعد کے سنانے کی نفی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سننے کی نفی نہیں یعنی حضرت سعد نے اتنی پست آواز سے جواب دیا جو سننے کے قابل نہ تھا ورنہ حواس انبیاء بہت قوی ہوتے ہیں وہ حضرات تو خطرات قلبی کو محسوس فرمالیتے ہیں۔حضرت سلیمان نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی تھی جیساکہ قرآن مجید میں ہے تو کیسے ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کی پست آواز نہ سن سکیں مگر شرعی احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں اس لیے سرکار واپس ہوگئے۔
۴
؎کیونکہ شرعی حکم یہ ہے کہ تین بار اجازت مانگنے پر جواب گھر میں سے نہ آئے تو واپس ہوجاؤ یہاں اس مسئلہ کا اظہار مقصودتھا۔
۵
؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ لفظ میرے ماں باپ آپ پر فدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے یعنی امتی صرف حضور سے ہی یہ عرض کرسکتا ہے یا اگر حضور اپنے کرم سے کسی امتی سے فرمادیں تو فرماسکتے ہیں جیسے حضور نے سعد ابن ابی وقاص سے فرمایاارم یا سعد فداك ابی وامیاے سعد تیر چلائے جاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان۔اب ہم حضور کے سواکسی سے یہ نہیں کہہ سکتے۔(مرقات)یہ کلمہ انتہائی محبت کا ہے مسلمانوں کو انتہائی محبت حضور سے چاہیے۔
۶
؎خیال رہے کہ سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا فرض ہے جسے سلام کرنے والا سن سکے لیکن یہاں تو وجہ ہی کچھ اور تھی کہ حضرت سعد نے جواب پست آواز میں دیا،اگر ترک فرض سے ایسی برکت حاصل ہوجائے تو ایسے ترک فرض پر ہزار ہا فرض قربان۔حضرت ام ہانی نے حضور کا پیا ہوا پانی پایا تو روزہ توڑدیا دیا اور وہ متبرک پانی پی لیا وہ سمجھیں کہ روزہ کی قضا کر لوں گی مگر یہ پانی مجھے کہاں ملے گا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد پر اعتراض نہ فرمایا۔(از مرقات و اشعۃ اللمعات) شعر
نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں
اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور نے فرمایا تھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس لیے فرمایا
ومن البرکۃ۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام حضور کا سلام حضور کی دعائیں لینے کے لیے بہانہ تلاش کرتے۔آج مسلمانوں کا یہ پڑھنایا نبی سلام علیكبہانہ ہے جواب سلام حاصل کرنے کا،حضور انور کا میلاد شریف پڑھنا حضور کے نام پر صدقہ و خیرات کرنا بہانہ ہے حضور کی دعائیں لینے کا،قرآن کریم فرماتا ہے:" وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ "الخ "وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ"یعنی دیہاتی اپنی خیراتوں کو ذریعہ بناتے ہیں اللہ سے قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا یہ بہانہ بڑی مبارک چیز ہے۔
۷
؎بعض روایات میں ہے کہ روٹی اور کشمش پیش کی حضور انور نے کشمش سے روٹی ملاحظہ فرمائی۔(مرقات)
۸
؎یہ جملہ دعا ہے یا خبر یعنی تمہارا کھانا خدا کرے ہمیشہ ابرار کھائیں فساق،فجار نہ کھائیں یا خبر ہے،چونکہ حضور انور سید الابرار ہیں اس لیے حضور انور کا کھانا گویا جہان بھر کے ابرار کا کھانا ہے۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی فرما سکتے ہیں ہم اپنے کو کس منہ سے ابرارکہیں،خدا تعالیٰ ہم گنہگاروں ناہنجاروں کو ابرار کی غلامی نصیب فرمادے۔
۹
؎یہ بھی دعا ہے یا خبر یعنی خداکرے ہمیشہ تمہارے لیے فرشتے دعائیں کرتے رہیں یا ہمارے کھانے سے فرشتوں نے تمہارے لیے دعائیں کیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور کا کسی کا کھانا ملاحظہ فرمانا فرشتوں کی دعا کا ذریعہ ہے۔(مرقات)
۱۰
؎یہ جملہ دعائیہ ہے یعنی خدا کرے تمہارے کھانے سے روزہ دار افطار کیاکریں تمہارا کھانا اس راہ میں خرچ ہوا کرے کیونکہ اس وقت حضور انور کا نہ تو روزہ تھا نہ یہ وقت افطار کا تھا،بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور کا روزہ تھا جو حضر ت سعد کی خاطر توڑ دیا گیا مگر یہ درست نہیں اس لیے کہ روزہ توڑنے کو افطار نہیں کہتے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4249