- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- حدیث نمبر 4249
باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4249
کھانوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَنَسٍ أَوْ غَيْرِهٖ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلٰى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ فَقَالَ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ» فَقَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتّٰى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهٗ سَعْدٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي: وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ فَقَرَّبَ لَهٗ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: «أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» . رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ
وعن أنس أو غيره أن رسول الله صلى الله عليه وسلم استأذن على سعد بن عبادة فقال: «السلام عليكم ورحمة الله» فقال سعد: وعليكم السلام ورحمة الله ولم يسمع النبي صلى الله عليه وسلم حتى سلم ثلاثا ورد عليه سعد ثلاثا ولم يسمعه فرجع النبي صلى الله عليه وسلم فاتبعه سعد فقال: يا رسول الله بأبي أنت وأمي ما سلمت تسليمة إلا وهي بأذني: ولقد رددت عليك ولم أسمعك أحببت أن أستكثر من سلامك ومن البركة ثم دخلوا البيت فقرب له زبيبا فأكل نبي الله صلى الله عليه وسلم فلما فرغ قال: «أكل طعامكم الأبرار وصلت عليكم الملائكة وأفطر عندكم الصائمون» . رواه في شرح السنة
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت انس یا ان کے سوا سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد ابن عبادہ کے ہاں اجازت چاہی تو فرمایا السلام علیکم ورحمۃ اللہ تو حضرت سعد نے کہا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ سنایا حتی کہ حضور نے تین بار سلام کیا ۲؎اور حضور کو سعد نے جواب دیا سنایا نہیں ۳؎تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوگئے ۴؎تو جناب سعد حضور کے پیچھے گئے عرض کیا یارسول اللہ میرے ماں باپ آپ پر فدا ۵؎حضور نے کوئی سلام نہ کیا مگر وہ میرے کان میں پہنچا اور میں نے حضور کا جواب دیا آپ کو نہ سنایا میں نے چاہا کہ آپ کا سلام اور برکت زیادہ حاصل کرلوں ۶؎پھر وہ سب گھر میں آئے حضور کی خدمت میں کشمش پیش کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کھالی ۷؎پھر جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ تمہارا کھانا نیکوں نے کھایا ۸؎تم پر فرشتوں نے دعاء رحمت کی ۹؎اور تمہارے پاس روزہ داروں نے افطاری کی ۱۰؎(شرح السنہ)
شرح حدیث
۱∞؎بعض روایات میں ہےعن انسبغیر شک و تردد کے۔
۲؎ملاقات کو جانے والا تین بار سلام کرے: ایک سلام اجازت،دوسرا سلام ملاقات،تیسرا سلام رخصت۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سلام اجازت کے دروازے کے باہر سے کہے تاکہ صاحبِ خانہ اندر آنے کی اجازت دیں حضرت سعد نے جواب دیا مگر آہستہ کہ حضور اقدس تک آواز نہ پہنچے جس کی وجہ آگے آرہی ہے کہ انہوں نے اس بہانہ سے حضور کے سلام بار بار لینے کی کوشش کی۔
۳؎خیال رہے کہ یہاں حضرت سعد کے سنانے کی نفی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سننے کی نفی نہیں یعنی حضرت سعد نے اتنی پست آواز سے جواب دیا جو سننے کے قابل نہ تھا ورنہ حواس انبیاء بہت قوی ہوتے ہیں وہ حضرات تو خطرات قلبی کو محسوس فرمالیتے ہیں۔حضرت سلیمان نے تین میل کے فاصلہ سے چیونٹی کی آواز سن لی تھی جیساکہ قرآن مجید میں ہے تو کیسے ممکن ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد کی پست آواز نہ سن سکیں مگر شرعی احکام ظاہر پر جاری ہوتے ہیں اس لیے سرکار واپس ہوگئے۔
۴؎کیونکہ شرعی حکم یہ ہے کہ تین بار اجازت مانگنے پر جواب گھر میں سے نہ آئے تو واپس ہوجاؤ یہاں اس مسئلہ کا اظہار مقصودتھا۔
۵؎بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ لفظ میرے ماں باپ آپ پر فدا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص ہے یعنی امتی صرف حضور سے ہی یہ عرض کرسکتا ہے یا اگر حضور اپنے کرم سے کسی امتی سے فرمادیں تو فرماسکتے ہیں جیسے حضور نے سعد ابن ابی وقاص سے فرمایاارم یا سعد فداك ابی وامیاے سعد تیر چلائے جاؤ تم پر میرے ماں باپ قربان۔اب ہم حضور کے سواکسی سے یہ نہیں کہہ سکتے۔(مرقات)یہ کلمہ انتہائی محبت کا ہے مسلمانوں کو انتہائی محبت حضور سے چاہیے۔
۶؎خیال رہے کہ سلام کا جواب اتنی آواز سے دینا فرض ہے جسے سلام کرنے والا سن سکے لیکن یہاں تو وجہ ہی کچھ اور تھی کہ حضرت سعد نے جواب پست آواز میں دیا،اگر ترک فرض سے ایسی برکت حاصل ہوجائے تو ایسے ترک فرض پر ہزار ہا فرض قربان۔حضرت ام ہانی نے حضور کا پیا ہوا پانی پایا تو روزہ توڑدیا دیا اور وہ متبرک پانی پی لیا وہ سمجھیں کہ روزہ کی قضا کر لوں گی مگر یہ پانی مجھے کہاں ملے گا اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد پر اعتراض نہ فرمایا۔(از مرقات و اشعۃ اللمعات) شعر
نمازیں گر قضا ہوں پھر ادا ہوں نگاہوں کی قضائیں کب ادا ہوں
اس حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور نے فرمایا تھا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس لیے فرمایاومن البرکۃ۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضرات صحابہ کرام حضور کا سلام حضور کی دعائیں لینے کے لیے بہانہ تلاش کرتے۔آج مسلمانوں کا یہ پڑھنایا نبی سلام علیكبہانہ ہے جواب سلام حاصل کرنے کا،حضور انور کا میلاد شریف پڑھنا حضور کے نام پر صدقہ و خیرات کرنا بہانہ ہے حضور کی دعائیں لینے کا،قرآن کریم فرماتا ہے:" وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ "الخ "وَصَلَوٰتِ الرَّسُوۡلِ"یعنی دیہاتی اپنی خیراتوں کو ذریعہ بناتے ہیں اللہ سے قرب کا اور رسول کی دعائیں لینے کا یہ بہانہ بڑی مبارک چیز ہے۔
۷؎بعض روایات میں ہے کہ روٹی اور کشمش پیش کی حضور انور نے کشمش سے روٹی ملاحظہ فرمائی۔(مرقات)
۸؎یہ جملہ دعا ہے یا خبر یعنی تمہارا کھانا خدا کرے ہمیشہ ابرار کھائیں فساق،فجار نہ کھائیں یا خبر ہے،چونکہ حضور انور سید الابرار ہیں اس لیے حضور انور کا کھانا گویا جہان بھر کے ابرار کا کھانا ہے۔یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی فرما سکتے ہیں ہم اپنے کو کس منہ سے ابرارکہیں،خدا تعالیٰ ہم گنہگاروں ناہنجاروں کو ابرار کی غلامی نصیب فرمادے۔
۹؎یہ بھی دعا ہے یا خبر یعنی خداکرے ہمیشہ تمہارے لیے فرشتے دعائیں کرتے رہیں یا ہمارے کھانے سے فرشتوں نے تمہارے لیے دعائیں کیں۔معلوم ہوا کہ حضور انور کا کسی کا کھانا ملاحظہ فرمانا فرشتوں کی دعا کا ذریعہ ہے۔(مرقات)
۱۰؎یہ جملہ دعائیہ ہے یعنی خدا کرے تمہارے کھانے سے روزہ دار افطار کیاکریں تمہارا کھانا اس راہ میں خرچ ہوا کرے کیونکہ اس وقت حضور انور کا نہ تو روزہ تھا نہ یہ وقت افطار کا تھا،بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور انور کا روزہ تھا جو حضر ت سعد کی خاطر توڑ دیا گیا مگر یہ درست نہیں اس لیے کہ روزہ توڑنے کو افطار نہیں کہتے۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4249