Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4252

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ : إِنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللّٰهِ إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ قَالَ: «فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَمِعُوا عَلٰى طَعَامِكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيْهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

وعن وحشي بن حرب عن أبيه عن جده : إن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا: يا رسول الله إنا نأكل ولا نشبع قال: «فلعلكم تفترقون؟» قالوا: نعم قال: «فاجتمعوا على طعامكم واذكروا اسم الله يبارك لكم فيها» . رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت وحشی ابن حرب سے وہ اپنے والد سے راوی وہ اپنے دادا سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کھاتے ہیں اور سیرنہیں ہوتے ۲؎فرمایا شاید تم الگ الگ کھاتے ہو عرض کیا ہاں۳؎فرمایا اپنے کھانے پر جمع ہوجایا کرو اور اللہ کا نام لو تم کو اس میں برکت دی جائے گی ۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎ان کا نام وحشی ابن حرب ابن وحشی ابن حرب ہے،یہ وحشی تابعین سے ہیں اور ان کے دادا وحشی ابن حرب وہ ہی ہیں جنہوں نے زمانہ کفر میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو شہید کیا،پھر زمانہ اسلام میں خلافت صدیقی میں مسیلمہ کذاب کو جہنم رسید کیا یعنی وحشی نے اپنے باپ حرب سے روایت کی اور حرب نے اپنے باپ وحشی سے روایت کی جو کہ ان راوی وحشی کے دادا ہیں،ان وحشی صحابی کے بہت سے بیٹے ہیں یعنی حرب، اسحاق وغیرہم۔(مرقات و اشعہ)
۲
؎یعنی ہم کھاتے زیادہ ہیں اور سیری کم ہوتی ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہم کو قناعت اور قوۃ علی الطاعۃ نصیب ہو وہ کم میسر ہوتی ہے۔
۳
؎یعنی گھر والے ایک ایک کر کے الگ الگ کھاتے ہیں جمع ہوکر ایک ساتھ نہیں کھاتے۔سبحان الله!یہ ہے مرض کا بیان ہے اور یہ ہے حکیم مطلق کی تشخیص اور پہچان۔
۴
؎یہ ہے ان حکیم مطلق صلی اللہ علیہ وسلم کا علاج فرمانا کہ جمع ہوکر ایک ساتھ کھانے میں برکت ہے۔خیال رہے کہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"لَیۡسَ عَلَیۡکُمْ جُنَاحٌ اَنۡ تَاۡکُلُوۡا جَمِیۡعًا اَوْ اَشْتَاتًا"یعنی تم پر گناہ نہیں مل کر کھاؤ یا الگ الگ کیونکہ آیت کریمہ میں الگ الگ کھانے کے جواز کا ذکر ہے اور اس حدیث پاک میں مل کر کھانے کے استحباب کا تذکرہ ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4252