- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- حدیث نمبر 4246
باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4246
کھانوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ أَوْ لَيْلَةٍ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَقَالَ: «مَا أَخْرَجَكُمَا مِنْ بُيُوتِكُمَا هٰذِهِ السَّاعَةَ؟» قَالَا: الْجُوعُ قَالَ: «وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَأَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكُمَا قُومُوا» فَقَامُوا مَعَهٗ فَأَتٰى رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي بَيْتِهٖ فَلَمَّا رَأَتْهُ الْمَرأَةُ قَالَتْ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ فُلَانٌ؟» قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ إِذْ جَاءَ الْأَنْصَارِيُّ فَنَظَرَ إِلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَاحِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ مَا أَحَدٌ الْيَوْمَ أَكْرَمَ أَضْيَافًا مِنِّي قَالَ: فَانْطَلَقَ فَجَاءَهُمْ بِعِذْقٍ فِيهِ بُسْرٌ وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ فَقَالَ: كُلُوا مِنْ هٰذِهٖ وَأَخَذَ الْمُدْيَةَ فَقَالَ لَهٗ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ» فَذَبَحَ لَهُمْ فَأَكَلُوا مِنَ الشَّاةِ وَمِنْ ذٰلِكَ الْعِذْقِ وَشَرِبُوا فَلَمَّا أَنْ شَبِعُوا وَرَوُوا قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيمِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَخْرَجَكُمْ مِنْ بُيُوتِكُمُ الْجُوعُ ثُمَّ لَمْ تَرْجِعُوا حَتّٰى أَصَابَكُمْ هٰذَا النَّعِيمُ » . رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَذُكِرَ حَدِيثُ أَبِي مَسْعُودٍ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي "بَابِ الْوَليمَةِ".
وعن أبي هريرة قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم أو ليلة فإذا هو بأبي بكر وعمر فقال: «ما أخرجكما من بيوتكما هذه الساعة؟» قالا: الجوع قال: «وأنا والذي نفسي بيده لأخرجني الذي أخرجكما قوموا» فقاموا معه فأتى رجلا من الأنصار فإذا هو ليس في بيته فلما رأته المرأة قالت: مرحبا وأهلا، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أين فلان؟» قالت: ذهب يستعذب لنا من الماء إذ جاء الأنصاري فنظر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وصاحبيه ثم قال: الحمد لله ما أحد اليوم أكرم أضيافا مني قال: فانطلق فجاءهم بعذق فيه بسر وتمر ورطب فقال: كلوا من هذه وأخذ المدية فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إياك والحلوب» فذبح لهم فأكلوا من الشاة ومن ذلك العذق وشربوا فلما أن شبعوا ورووا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر وعمر: «والذي نفسي بيده لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة أخرجكم من بيوتكم الجوع ثم لم ترجعوا حتى أصابكم هذا النعيم » . رواه مسلم. وذكر حديث أبي مسعود: كان رجل من الأنصار في "باب الوليمة".
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن یا ایک رات باہر تشریف لائے تو اچانک ابوبکروعمر تھے ۱؎فرمایا اس گھڑی تم دونوں کو اپنے گھروں سے کس چیز نے نکالا عرض کیا بھوک نے ۲؎فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے بھی اس نے نکالا جس نے تم کو نکالا ۳؎اٹھو چنانچہ وہ حضور کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے ۴؎ایک انصاری صاحب کے ہاں گئے ۵؎تو وہ اپنے گھر میں نہ تھے جب حضور کو ان کی بیوی نے دیکھا بولیں خوش آمدید اھلًا ۶؎ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فلاں کہاں ہیں ۷؎بولیں ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ۸؎اتنے میں انصاری صاحب آگئے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا بولے اللہ کا شکر ہے ۹؎آج مجھ سے بہتر مہمانوں والا کوئی نہیں ۱۰؎پھر وہ چلے تو ان کی خدمت میں ایک بڑا خوشہ لائے جس میں کچے خشک و ترکھجوریں تھیں عرض کیا اس سے کھائیے ۱۱؎اور چھری لی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ والی سے الگ رہنا۱۲؎پھر انہوں نے ان حضرات کے لیے بکری ذبح کی ان صاحبوں نے بکری اور اس خوشہ سے کھایا پانی پیا ۱۳؎پھر جب سیر ہوگئے اور پانی سے سیراب ہوئے ۱۴؎تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جناب ابوبکروعمر سے فرمایا اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا قیامت کے دن ۱۵؎کہ تم کو تمہارے گھروں سے بھوک نے نکالا پھر تم واپس نہ ہوئے حتی کہ تم کو یہ نعمتیں مل گئیں ۱۶؎(مسلم) ۱۷؎اور حضرت ابو مسعود کی حدیثکان رجل من الانصار باب الولیمۃمیں ذکر کی گئی ۱۸؎
شرح حدیث
۱∞؎بعض روایات میں ہے کہ یہ وقت دوپہر کا تھا۔(اشعہ)
۲؎ان حضرات کا اس وقت اپنے گھروں سے نکل پڑنا نہ تو کسی سے کچھ مانگنے کے لیے تھا نہ کہیں دعوت میں جانے کے لیے بلکہ وجہ یہ تھی کہ سخت بھوک میں کسی عبادت میں دل نہیں لگا کرتا ایسی حالت میں عبادت کرنا ایسے ہی ممنوع ہے جیسے پیشاب پاخانہ کی سخت حاجت میں عبادت مکروہ ہے اس لیے یہ حضرات اپنی عبادات نوافل ترک کرکے دل بہلانے باہر آگئے۔ (مرقات)
۳؎یعنی ہم بھی اس وقت اس وجہ سے باہر تشریف لائے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ اپنی تکلیف کو کسی پر ظاہر کرنا جب کہ ناشکری یا گھبراہٹ کے اظہار یا بے صبری کے لیے نہ ہو جائز ہے۔(مرقات)ان دونوں بزرگوں کا حضور کی خدمت میں بھوک کی شکایات کرنا ایسا ہے جیسے اولاد کا ماں باپ سے بھوک کی شکایت کرنا اور حضور انور کا یہ فرمان ان بزرگوں کی تسکین اور صبر کے لیے ہے یعنی دیکھو ہم کو بھی بھوک ہے مگر صبربھی ہے۔خیال رہے کہ ان حضرات کا اس موقعہ پر کمانے کے لیے نہ جانا حتی کہ بھوک نے پریشان کردیا دینی کام میں زیادہ مشغولیت کی وجہ سے تھا جو کمائی سے زیادہ اہم تھا ورنہ وہ دونوں حضرات معاش کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔اشعۃ اللمعات میں ہے کہ یہ حضرات حضور کا دیدار کرکے سیر ہوجاتے تھے ان کی بھوک جاتی رہتی تھی جیسے قحط کے زمانہ میں مصری لوگ جمال یوسفی دیکھ کر سیر ہوجاتے تھے۔(اشعۃ اللمعات)
۴؎دو کے لیے جمع فرمانا یا مجازًا ہے یا کبھی دو کو جمع بول دیتے ہیں۔
۵؎یہ خوش نصیب صحابی حضرت مالک ابن تیہان ہیں۔کنیت ابو الہیشم انصاری ہیں جو بڑے وسیع باغ بہت بکریوں کے مالک تھے،چونکہ اس مہمانی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اصل تھے یہ دونوں حضرات حضور کے تابع تھے اس لیےاتیصیغہ واحد ارشاد ہوا۔
۶؎اہل عرب مہمان کو دیکھ کر یہ الفاظ کہتے ہیں جیسے انگریزی میں ویل کم،فارسی میں خوش آمدید۔
۷؎یعنی تمہارے خاوند کہاں ہیں۔معلوم ہوا کہ کبھی اپنے دوست یا خادم کے گھر خود مہمان بن جانا بھی جائز ہے مہمان کے لیے صاحبِ خانہ کا بلانا ضروری نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر مالک مکان گھر میں نہ ہو تو اسکے بال بچوں کے پاس انتظار کے لیے بات چیت کرنا درست ہے جب کہ ضرورۃً ہو بغیر خلوت کے ہو۔
۸؎یعنی ہمارے باغ میں پانی ہے مگر قدرے کھاری ہے باغ سے کچھ فاصلہ پر میٹھے پانی کا کنواں ہے وہاں سے پینے کے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔
۹؎شمائل ترمذی میں ہے کہ یہ بات ہو رہی تھی کہ مالک ابن تیہان یعنی صاحب باغ بھی آگئے پانی کا برتن زمین پر رکھ کر حضور سے لپٹ گئے میرے ماں باپ فدا۔شعر
زشان و شوکت سلطان نہ گشت چیزے کم ز التفات بمہماں سرائے مسکینے
کلاہ گوشہ مسکین بہ آفتاب رسید کہ سایہ برسرش افگندچوں تو سلطانے
اس میں حضر ت مالک ابن تیہان کی اس عظمت کا ظہور ہے کہسبحان الله!حضور انور نے ان کے گھر کو اپنا تصور فرماکر وہاں تشریف ارزانی فرمائی۔خیال رہے کہ آپ بیعت عقبہ اولٰی میں شریک ہوئے،بارہ نقیبوں میں آپ بھی تھے،بدرواحد اور تمام غزوات میں شریک رہے۔
۱۰؎یعنی آج معراج کا دولہا عرش اعظم کا مہمان میرے گھر کیسے کرم فرما ہوگیا،میں اپنے مقدر پر جس قدر ناز کروں کم ہے، آج میرا باغ رشک خلد بریں بلکہ رشک عرش بریں ہے۔
۱۱؎فورًا چادر بچھائی بڑا سا خوشہ کھجور کا حاضر لائے۔بعض روایات میں ہے کہ حضور انور نے فرمایا صرف رطب کھجوریں ہی کیوں نہ لائے،عرض کیا کہ میں ہر قسم کی کھجوریں حاضر لایا ہوں تاکہ جو پسند خاطر ہو وہ ملاحظہ کریں۔
۱۲؎یعنی دودھ والی بکری ذبح نہ کرنا۔بعض بزرگ دودھ والی گائے بکری بھینس کی قربانی نہیں کرتے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے اگرچہ فرمان عالی بطور مشورہ تھا مگر حضور کے مشورہ پرعمل بھی بہت ہی اچھا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مہمان کو پہلے کچھ پھل کھلانا پھر کھانا پیش کرنا سنت صحابی ہے،بعد کھانے کے پھل پیش کرنا بھی سنت ہے جس کی روایات گزرچکیں۔
۱۳؎یہاں مرقات نے فرمایا کہ حضور انور نے دوبارہ کھجوریں کھائیں۔کھانے سے پہلے بھی اور کھانے کے بعد بھی۔
۱۴؎نووی نے فرمایا کہ شکم سیرکو کھانا پینا جائز ہے جن احادیث میں اس سے ممانعت آتی ہے وہاں ہمیشہ سیر ہوکر کھانا مراد ہے۔
۱۵؎کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے بھوک و پیاس کی حالت میں ایسی نعمتیں عطا فرمائیں۔لتسئلنمخاطب کے صیغہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ قیامت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے حساب نہ لیا جائے گا کہ حضور کا ہر عمل تعلیم و تبلیغ کے لیے تھا آپ کا حساب نہیں بلکہ بلا حساب اجروثواب بے حساب عطا ہوگا صلی اللہ علیہ وسلم۔
۱۶؎یعنی قیامت میں تم سے سوال یہ ہوگا کہ تم نے ان نعمتوں کا شکریہ ادا کیا یا نہیں اگر کیا تو وہ کیا تھا یا اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے سوال یہ ہوگا کہ ہماری فلاں فلاں نعمتیں تم نے کھائیں یا نہیں۔غرضیکہ سوال توبیخ اور ہے سوال تعداد کچھ اور مرقات نے یہ دوسرے معنی اختیار فرمائے کہ یہ سوال سوال احترام ہوگا ناکہ سوال توبیخ کہ سوال تو بیخ یا کفار سے ہوگا یا غافلوں ناشکروں سے۔
۱۷؎اس حدیث کا تتمہ بھی عنقریب آرہا ہے تو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو الہیثم سے فرمایا کہ جب ہمارے پاس غلام آویں تو تم آنا ہم تم کو ایک غلام عطا فرمائیں گے کچھ روز بعد دو غلام حضور کی بارگاہ میں لائے گئے تب ابو الہیثم حاضر بارگاہ ہوئے حضور انور نے فرمایا ان میں سے ایک لے لو۔عرض کیا حضور آپ ہی انتخاب فرماکر ایک عطا فرمادیں فرمایا لے جاؤ یہ نمازی ہے اس سے برتاؤ اچھا کرنا۔چنانچہ ابوالہیثم اس غلام کو گھر لائے اور اسے آزاد کردیا۔
۱۸؎یعنی ابو مسعود کی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسےباب الولیمۃمیں نقل کیا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4246