Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4244

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهٗ جَائِزَتُهٗ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَالضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ فَمَا بَعْدَ ذٰلِكَ فَهُوَ صَدَقَةٌ وَلَا يَحِلُّ لَهٗ أَنْ يَثْوِيَ عِنْدَهٗ حَتّٰى يُحَرِّجَهٗ(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أبي شريح الكعبي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه جائزته يوم وليلة والضيافة ثلاثة أيام فما بعد ذلك فهو صدقة ولا يحل له أن يثوي عنده حتى يحرجه(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوشریح کعبی سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتاہو وہ اپنے مہمان کا احترام کرے ۲؎اس کی مہمانی ایک دن رات ہے۳؎اور دعوت تین دن ہے اس کے بعد وہ صدقہ ہے مہمان کو یہ حلال نہیں کہ اس کے پاس ٹھہرا رہے حتی کہ اسے تنگ کردے۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام خویلد ابن عمرو ہے،عدوی ہیں،قبیلہ بنی کعب سے ہیں،فتح مکہ کے دن بنی کعب کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا،مدینہ منورہ میں وفات پائی۔
۲
؎ہمارا مہمان وہ ہے جو ہم سے ملاقات کے لیے باہر سے آئے خواہ اس سے ہماری واقفیت پہلے سے ہو یا نہ ہو۔ جو ہمارے اپنے ہی محلہ یا اپنے شہر میں سے ہم سے ملنے آئے دوچار منٹ کے لیے وہ ملاقاتی ہے مہمان نہیں اس کی خاطر تو کرو مگر اس کی دعوت نہیں ہے اور جو ناواقف شخص اپنے کام کے لیے ہمارے پاس آئے وہ مہمان نہیں جیسے حاکم یا مفتی کے پاس مقدمہ والے یا فتویٰ والے آتے ہیں یہ حاکم کے مہمان نہیں۔
۳
؎حضرت لیث اس کی بناء پر فرماتے ہیں کہ مہمان کو ایک شب کھانا کھلانا واجب ہے اگر نہ کھلائے گا تو گنہگار ہوگا۔جائزہکے معنی ہیں عطیہ ہدیہ،اس کی جمع ہےجوائزجیسےفاضلہکی جمعفواضلہیعنی مہمان کا مضبوط و پختہ حق۔
۴
؎اگر صاحب خانہ خود ہی بخوشی روکے تو رک جانے میں حرج نہیں لیکن اس پرتنگی ہو اور مہمان ڈٹا رہے یہ بے غیرتی بھی ہے اور مسلمان کو تنگ کرنا بھی یہ ممنوع ہے۔یہ قوانین آج عیسائیوں نے اختیار کرلیے ہیں، انکے ہاں مہمان پہلے ہی خط لکھ دیتا ہے کہ میں اتنے روز کے لیے آپ کے ہاں آرہا ہوں،پھر جب وہ دن گزر جاتے ہیں اور یہ مہمان کسی وجہ سے ٹھہرتا ہے تو صاحبِ خانہ کو ان زائد دنوں کا بل ادا کرتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4244