Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4254

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وُضِعَتِ الْمَائِدَةُ فَلَا يَقُومُ رَجُلٌ حَتّٰى تُرْفَعَ الْمَائِدَةُ وَلَا يَرْفَعْ يَدَهٗ وَإِنْ شَبِعَ حَتّٰى يَفْرُغَ الْقَوْمُ وَلْيُعْذِرْ فَإِنَّ ذٰلِكَ يُخَجِّلُ جَلِيسَهٗ فَيَقْبِضُ يَدَهٗ وَعَسٰى أَنْ يَكُونَ لَهٗ فِي الطَّعَامِ حَاجَةٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ فِي “شُعَبِ الإِيمَانِ”

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا وضعت المائدة فلا يقوم رجل حتى ترفع المائدة ولا يرفع يده وإن شبع حتى يفرغ القوم وليعذر فإن ذلك يخجل جليسه فيقبض يده وعسى أن يكون له في الطعام حاجة رواه ابن ماجه والبيهقي في “شعب الإيمان”

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب دسترخوان رکھا جائے تو کوئی شخص نہ اٹھے تاآنکہ دسترخوان اٹھالیا جائے اور نہ اپنا ہاتھ اٹھائے اگرچہ سیر ہوجائے ۱؎حتی کہ قوم فارغ ہوجائے اور معذرت کردے ۲؎کیونکہ یہ کام اپنے ساتھی کو شرمندہ کرے گا کہ وہ بھی اپنے ہاتھ سمیٹ لے گا ممکن ہے کہ ابھی اسے کھانے کی ضرورت ہو۳؎(ابن ماجہ،بیہقی شعب الایمان)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر کوئی شخص جماعت کے ساتھ کھانا کھائے اور خود جلد کھاچکے اور لوگ ابھی کھا رہے ہوں تو نہ تو دسترخوان سے اٹھے نہ کھانے سے ہاتھ سمیٹے بلکہ چھوٹے چھوٹے لقمے کچھ وقفہ سے کھاتا رہے تاکہ دوسرے اپنا پیٹ بھرلیں۔
۲
؎یعنی اگر جانے کی جلدی ہو تو باقی کھانے والے ساتھیوں سے کہہ دے کہ مجھے جلدی ہے میں معذور ہوں آپ حضرات کھاتے رہیں۔میرے مرشد برحق صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین صاحب مرادآبادی قدس سرہ کا دسترخوان بہت وسیع تھا،حضرت اپنے خادم کے ساتھ کھاتے تھے مگر جلد کھاچکتے تو فرمادیتے کہ تم لوگ کھاتے رہو مجھے کچھ عذر ہے وہ عمل شریف اس حدیث کی تفسیر تھا۔
۳
؎اس جملہ میں اس حکم کی حکمت کا بیان ہے کہ اگر تم دسترخوان سے اٹھ کھڑے ہوئے تو تمہارے ساتھی شرم کی وجہ سے بغیر فراغت ہی اٹھ کھڑے ہوں گے وہ بھوکے رہیں گے اس لیے ان کا لحاظ کرتے ہوئے ابھی ٹھہرو کچھ کھاتے جاؤ۔امام غزالی فرماتے ہیں جو شخص کم خوراک ہو جب وہ جماعت کے ساتھ کھائے تو کچھ دیر بعد کھانا شروع کرے اور چھوٹے چھوٹے لقمے اٹھائے اور دیر دیر سے کھائے مگر کھانا سب کے ساتھ ختم کرے۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4254