- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- کھانوں کا بیان
- حدیث نمبر 4253
باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4253
کھانوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتّٰى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهٗ فَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القِيَامَةِ » قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ العِذْقَ فَضَرَبَ فِيهِ الْأَرْضَ حَتّٰى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَمَسْؤُولُونَ عَنْ هٰذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهٗ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهٗ أَوْ حُجْرٍ يَتَدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» . مُرْسَلًا
عن أبي عسيب قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فمر بي فدعاني فخرجت إليه ثم مر بأبي بكر فدعاه فخرج إليه ثم مر بعمر فدعاه فخرج إليه فانطلق حتى دخل حائطا لبعض الأنصار فقال لصاحب الحائط: «أطعمنا بسرا» فجاء بعذق فوضعه فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ثم دعا بماء بارد فشرب فقال: «لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة » قال: فأخذ عمر العذق فضرب فيه الأرض حتى تناثر البسر قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله إنا لمسؤولون عن هذا يوم القيامة؟ قال: «نعم إلا من ثلاث خرقة لف بها الرجل عورته أو كسرة سد بها جوعته أو حجر يتدخل فيه من الحر والقر» . رواه أحمد والبيهقي في «شعب الإيمان» . مرسلا
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابو عسیب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہرتشریف لائے مجھ پرگزرے تو مجھے بلایا میں نکل آیا پھر جناب ابوبکر پر گزرے انہیں بلایا وہ بھی آپ کے پاس آگئے پھر حضرت عمر پرگزرے تو انہیں بلایا وہ بھی نکل آئے تب چلے۲؎حتی کہ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ۳؎تو باغ والے سے فرمایا ۴؎ہم کو کچی کھجوریں کھلاؤ ۵؎وہ ایک خوشہ لائے اس کو رکھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا پھر ٹھنڈا پانی منگایا وہ پیا ۶؎پھر فرمایا ان نعمتوں کے متعلق تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا ۷؎راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خوشہ لیا اسے زمین پر مارا حتی کہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھڑگئیں پھر عرض کیایارسول اللہ ہم قیامت کے دن اس کے متعلق پوچھے جائیں گے۸؎فرمایا ہاں بجز تین چیزوں کے ۹؎وہ چیتھڑا جس سے انسان اپنا ستر لپیٹ لے،وہ ٹکڑا روٹی کا جس سے اپنی بھوک دفع کرے،وہ سوراخ جس میں سردی گرمی سے بہ تکلف داخل ہوجائے ۱۰؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)۱۱؎
شرح حدیث
۱∞؎آپ کا نام احمد،لقب احمر ہے،کنیت ابو عسیب مگر اپنی نسبت میں مشہور ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
۲؎یعنی چار حضرات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھ ہی یہ تین خدام بارگاہ۔
۳؎یہ باغ ابوالہیثم کا تھا یا کسی اور انصاری کا مگر یہ واقعہ دوسرا ہے اور جو پہلے مذکور ہوا وہ دوسرا تھا۔
۴؎پہلے جو واقعہ مذکور ہوا وہاں باغ والے صاحب خود کھجوروں کا خوشہ لائے تھے اور بکری ذبح کی تھی۔یہاں طلب سرکار نے فرمائی،لہذا یہ واقعہ دوسرا ہے۔
۵؎یہ سوال وہ نہیں جس سے منع فرمایا گیا ہےیعنی ذات کا سوال،یہ سوال ایسا ہے جیسے والد اپنی اولاد سے یا مولیٰ اپنے غلام سے یا دوست اپنے دوست سے کچھ طلب کرے اس سوال سے تو صاحب خانہ کو قیامت تک کے لیے فخر ہوگیا کہ مجھے سرکار حضور نے اس لائق سمجھا کہ مجھ سے یہ طلب فرمایا لہذا یہ احادیث شریفہ میں تعارض نہیں جس سوال سے ممانعت ہے وہ اور سوال ہے یہ کچھ اور سوال۔
۶؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیا اور ان حضرات صحابہ نے بھی،حضور کو ٹھنڈا بلکہ باسی پانی بہت مرغوب تھا۔
۷؎خیال رہے کہ یہاںلتسئلنصیغہ جمع متکلم نہیں بلکہ جمع مخاطب ہے یعنیتسے ہےنسے نہیں،یعنی اے میری امت والو! تم سے سوال ہوگا حساب ہوگا کہ ان نعمتوں کا شکریہ تم نے کیا ادا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حساب نہیں حضور سے سوال تو یہ ہوگا کہ آپ کی امت نے آپ سے کیا برتاوا کیا،حضرات انبیاء کرام سے نعمتوں کا سوال نہیں۔(مرقات)
۸؎یعنی یہ کھجوریں اگرچہ نعمتیں ہیں مگر نہایت معمولی جن کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی یوں ہی ماری ماری پھرتی ہیں،تعجب ہے کہ ان کا حساب بھی ہوگا۔حضرت عمر کا یہ عمل اور یہ سوال انتہائی خوفِ الٰہی کا باعث تھاکہ جب ان جیسی چیزوں کا بھی حساب ہے تو اعلیٰ چیزوں کا کیا بنے گا،ان کا حساب کس قدر سخت ہوگا تحقیر کے لیے یہ سوال نہیں۔
۹؎جو ضروریات زندگی سے ہیں ان کے متعلق حساب نہ ہوگاکہ تم نے ان کا شکریہ کیا ادا کیا وہ چیزیں تو عبدیت و مربوبیت کا حق ہیں حق کا حساب نہیں ہوتا۔
۱۰؎یعنی بقاءانسانی ان تین چیزوں پر موقوف ہے:زندگی رکھنے کے لیے ستر چھپانے والا کپڑا اور پیٹ میں بوجھ ڈالنے کے لیے روٹی کا معمولی ٹکڑا اور چوہے کے سوراخ جیسا معمولی مکان جس میں مال بہ تکلف جا آسکے۔ سردی گرمی سے بچاؤ کے لیے یہ چیزیں زندگی کی موقوف علیہ ہیں قیامت کے حساب سے خارج ہیں مگر یہ کھجوریں اگرچہ معمولی سہی مگر ہیں ضروریات کے علاوہ کہ یہ بھی ہیں جن میں لذت ہے لہذا ان کا حساب ہوگا۔حجر ح کے پیش جیم کے سکون سے بمعنی سوراخ یا بمعنی محجر یعنی پتھروں سے گھیری ہوئی زمین۔ (مرقات)
۱۱؎حاکم نے مستدرک میں یہ حدیث نقل کرکے آخر میں فرمایا کہ حضور نے ارشاد کیا کہ اگر تم کو یہ گراں معلوم ہو تو ہر نعمت کھاتے وقت یہ پڑھ لیاکروبسم الله علیٰ برکت اللهاور کھاچکنے پر پڑھا کروالحمد لله الذی ھو اشبعنا وارادانا وانعم علینا وافضل،یہ کلمات ان نعمتوں کا شکریہ ہیں۔(مرقات)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4253