Main Icon

باب:دعوت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4253

کھانوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَانْطَلَقَ حَتّٰى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: «أَطْعِمْنَا بُسْرًا» فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهٗ فَأَكَلَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهٗ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: «لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هٰذَا النَّعِيمِ يَوْمَ القِيَامَةِ » قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ العِذْقَ فَضَرَبَ فِيهِ الْأَرْضَ حَتّٰى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا لَمَسْؤُولُونَ عَنْ هٰذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ خِرْقَةٍ لَفَّ بِهَا الرَّجُلُ عَوْرَتَهٗ أَوْ كِسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهٗ أَوْ حُجْرٍ يَتَدخَّلُ فِيهِ مَنِ الْحَرِّ وَالْقُرِّ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي «شُعَبِ الإِيمَانِ» . مُرْسَلًا

عن أبي عسيب قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلا فمر بي فدعاني فخرجت إليه ثم مر بأبي بكر فدعاه فخرج إليه ثم مر بعمر فدعاه فخرج إليه فانطلق حتى دخل حائطا لبعض الأنصار فقال لصاحب الحائط: «أطعمنا بسرا» فجاء بعذق فوضعه فأكل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه ثم دعا بماء بارد فشرب فقال: «لتسألن عن هذا النعيم يوم القيامة » قال: فأخذ عمر العذق فضرب فيه الأرض حتى تناثر البسر قبل رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال: يا رسول الله إنا لمسؤولون عن هذا يوم القيامة؟ قال: «نعم إلا من ثلاث خرقة لف بها الرجل عورته أو كسرة سد بها جوعته أو حجر يتدخل فيه من الحر والقر» . رواه أحمد والبيهقي في «شعب الإيمان» . مرسلا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو عسیب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہرتشریف لائے مجھ پرگزرے تو مجھے بلایا میں نکل آیا پھر جناب ابوبکر پر گزرے انہیں بلایا وہ بھی آپ کے پاس آگئے پھر حضرت عمر پرگزرے تو انہیں بلایا وہ بھی نکل آئے تب چلے۲؎حتی کہ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے ۳؎تو باغ والے سے فرمایا ۴؎ہم کو کچی کھجوریں کھلاؤ ۵؎وہ ایک خوشہ لائے اس کو رکھ دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں نے کھایا پھر ٹھنڈا پانی منگایا وہ پیا ۶؎پھر فرمایا ان نعمتوں کے متعلق تم سے قیامت کے دن سوال ہوگا ۷؎راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے خوشہ لیا اسے زمین پر مارا حتی کہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھڑگئیں پھر عرض کیایارسول اللہ ہم قیامت کے دن اس کے متعلق پوچھے جائیں گے۸؎فرمایا ہاں بجز تین چیزوں کے ۹؎وہ چیتھڑا جس سے انسان اپنا ستر لپیٹ لے،وہ ٹکڑا روٹی کا جس سے اپنی بھوک دفع کرے،وہ سوراخ جس میں سردی گرمی سے بہ تکلف داخل ہوجائے ۱۰؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)۱۱؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ کا نام احمد،لقب احمر ہے،کنیت ابو عسیب مگر اپنی نسبت میں مشہور ہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ہیں۔
۲
؎یعنی چار حضرات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ساتھ ہی یہ تین خدام بارگاہ۔
۳
؎یہ باغ ابوالہیثم کا تھا یا کسی اور انصاری کا مگر یہ واقعہ دوسرا ہے اور جو پہلے مذکور ہوا وہ دوسرا تھا۔
۴
؎پہلے جو واقعہ مذکور ہوا وہاں باغ والے صاحب خود کھجوروں کا خوشہ لائے تھے اور بکری ذبح کی تھی۔یہاں طلب سرکار نے فرمائی،لہذا یہ واقعہ دوسرا ہے۔
۵
؎یہ سوال وہ نہیں جس سے منع فرمایا گیا ہےیعنی ذات کا سوال،یہ سوال ایسا ہے جیسے والد اپنی اولاد سے یا مولیٰ اپنے غلام سے یا دوست اپنے دوست سے کچھ طلب کرے اس سوال سے تو صاحب خانہ کو قیامت تک کے لیے فخر ہوگیا کہ مجھے سرکار حضور نے اس لائق سمجھا کہ مجھ سے یہ طلب فرمایا لہذا یہ احادیث شریفہ میں تعارض نہیں جس سوال سے ممانعت ہے وہ اور سوال ہے یہ کچھ اور سوال۔
۶
؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیا اور ان حضرات صحابہ نے بھی،حضور کو ٹھنڈا بلکہ باسی پانی بہت مرغوب تھا۔
۷
؎خیال رہے کہ یہاںلتسئلنصیغہ جمع متکلم نہیں بلکہ جمع مخاطب ہے یعنیتسے ہےنسے نہیں،یعنی اے میری امت والو! تم سے سوال ہوگا حساب ہوگا کہ ان نعمتوں کا شکریہ تم نے کیا ادا کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حساب نہیں حضور سے سوال تو یہ ہوگا کہ آپ کی امت نے آپ سے کیا برتاوا کیا،حضرات انبیاء کرام سے نعمتوں کا سوال نہیں۔(مرقات)
۸
؎یعنی یہ کھجوریں اگرچہ نعمتیں ہیں مگر نہایت معمولی جن کی پرواہ بھی نہیں کی جاتی یوں ہی ماری ماری پھرتی ہیں،تعجب ہے کہ ان کا حساب بھی ہوگا۔حضرت عمر کا یہ عمل اور یہ سوال انتہائی خوفِ الٰہی کا باعث تھاکہ جب ان جیسی چیزوں کا بھی حساب ہے تو اعلیٰ چیزوں کا کیا بنے گا،ان کا حساب کس قدر سخت ہوگا تحقیر کے لیے یہ سوال نہیں۔
۹
؎جو ضروریات زندگی سے ہیں ان کے متعلق حساب نہ ہوگاکہ تم نے ان کا شکریہ کیا ادا کیا وہ چیزیں تو عبدیت و مربوبیت کا حق ہیں حق کا حساب نہیں ہوتا۔
۱۰
؎یعنی بقاءانسانی ان تین چیزوں پر موقوف ہے:زندگی رکھنے کے لیے ستر چھپانے والا کپڑا اور پیٹ میں بوجھ ڈالنے کے لیے روٹی کا معمولی ٹکڑا اور چوہے کے سوراخ جیسا معمولی مکان جس میں مال بہ تکلف جا آسکے۔ سردی گرمی سے بچاؤ کے لیے یہ چیزیں زندگی کی موقوف علیہ ہیں قیامت کے حساب سے خارج ہیں مگر یہ کھجوریں اگرچہ معمولی سہی مگر ہیں ضروریات کے علاوہ کہ یہ بھی ہیں جن میں لذت ہے لہذا ان کا حساب ہوگا۔حجر ح کے پیش جیم کے سکون سے بمعنی سوراخ یا بمعنی محجر یعنی پتھروں سے گھیری ہوئی زمین۔ (مرقات)
۱۱
؎حاکم نے مستدرک میں یہ حدیث نقل کرکے آخر میں فرمایا کہ حضور نے ارشاد کیا کہ اگر تم کو یہ گراں معلوم ہو تو ہر نعمت کھاتے وقت یہ پڑھ لیاکروبسم الله علیٰ برکت اللهاور کھاچکنے پر پڑھا کروالحمد لله الذی ھو اشبعنا وارادانا وانعم علینا وافضل،یہ کلمات ان نعمتوں کا شکریہ ہیں۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4253