Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5122

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ وَثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ فَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ: فَتَقْوَى اللّٰهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَوْلُ بِالْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالسُّخْطِ وَالْقَصْدُ فِي الْغِنٰى وَالْفَقْرِ. وَأَمَّا الْمُهْلِكَاتُ: فَهَوًى مُتَّبَعٌ وَشُحٌّ مُطَاعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهٖ وَهِيَ أَشَدُّهُنَّ« رَوَى البَيْهَقِيُّ الْأَحَادِيثَ الْخَمْسَةَ فِي» شُعَبِ الإِيمَانِ "

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "ثلاث منجيات وثلاث مهلكات فأما المنجيات: فتقوى الله في السر والعلانية، والقول بالحق في الرضا والسخط والقصد في الغنى والفقر. وأما المهلكات: فهوى متبع وشح مطاع وإعجاب المرء بنفسه وهي أشدهن« روى البيهقي الأحاديث الخمسة في» شعب الإيمان "

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین چیزیں نجات دینے والی ہیں ۱∞؎اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی لیکن نجات دینے والی تو وہ الله سے ڈرنا ہے خفیہ اور علانیہ ۲؎اور سچی بات کہنا ہے خوشی اور ناخوشی میں اور درمیانی چال ہے امیری اور فقیری ۳؎میں لیکن ہلاک کرنے والی چیزیں تو وہ نفسانی خواہش ہے جس کی پیروی کی جائے ۴؎اوربخل ہے جس کی اطاعت ہو ۵؎اور انسان کا اپنے کو اچھا جاننا ۶؎یہ ان سب میں سخت تر ہے ۷؎ان پانچوں حدیثوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نجات چھٹکارا اور سبب تین چیزیں ہیں۔
۲
؎یعنی لوگوں کے سامنے اور خلوت ہر حالت میں نیک کام کرے اور الله سے ڈرے،الله کا ڈر تمام نیکیوں کی جڑ ہے الله نصیب کرے۔
۳
؎یعنی ہر حالت میں سچ بولے ،غصہ اور خوشی اسے حق گوئی سے باز نہ رکھے اور اپنا خرچ درمیانہ رکھے نہ بخل کرے نہ فضول خرچی۔کمانا ایک کمال ہے اور صحیح خرچ کرنا پچاس کمال،درمیانی چال ہمیشہ ہی مفید ہے۔
۴
؎کہ جو دل چاہے وہ کرے،جائز اور ناجائز کا خیال نہ کرے،اس کی باگ دوڑ نفس امارہ کے ہاتھ میں ہو،ظاہر ہے کہ ایسا شخص ہلاک ہی ہوگا۔
۵
؎پرایا مال ناحق کھانا،اپنے ذمہ جو حقوق ہوں وہ ادا نہ کرنا،گناہ میں مشغول رہنا یہ سب بخل کی اطاعت ہی سے ہوتا ہے،بخل کا نتیجہ حرص ہے۔(مرقات)۶؎یعنی کسی کی بات نہ ماننا خواہ کتنی اچھی ہو،اپنی بات ہی منوانا خواہ کتنی ہی بری ہو،اپنے کو کامل سمجھنا دوسروں کو ناقص جاننا یہ بھی تکبر کی ایک قسم ہے۔
۷
؎کیونکہ ہر عیب سے پاک ہونا ہر خوبی سے موصوف ہونا الله تعالٰی کی صفت ہے،جو اپنے کو ایسا سمجھے وہ اپنے کو خدا کا ہمسرسمجھتا ہے،ہم سب عیب دار ہیں بے عیب ذات الله تعالٰی کی ہے یا اس کی جسے بے عیب بنادے جیسے فرشتے یا حضرت انبیاء علیہم السلام یا بعض اولیائے کرام۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5122