Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5107

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبَهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهٖ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يدخل النار أحد في قلبه مثقال حبة من خردل من إيمان. ولا يدخل الجنة أحد في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ وہ شخص آگ میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو ۱∞؎اور وہ شخص جنت میں داخل نہ ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر غرور ہو ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جس کے دل میں رائی برابر نور ایمانی ہو وہ ہمیشہ رہنے کے لیے دوزخ میں نہیں جاوے گا لہذا حدیث واضح ہے۔ایمان سے مراد نتیجہ ایمان ہے اور آگ میں جانے سے مراد ہمیشگی کے لیے جانا ہے،ایمان میں زیادتی کمی ناممکن ہے نور ایمان میں ممکن ہے۔
۲
؎اس فرمان عالی کے چند معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی برابر کفر ہو وہ جنت میں ہرگز نہ جاوے گا۔کبر سے مراد الله و رسول کے سامنے غرور کرنا یہ کفر ہے۔دوسرے یہ کہ دنیا میں جس کے دل میں رائی کے برابر غرور ہوگا وہ جنت میں اولًا نہ جائے گا۔تیسرے یہ کہ جس کے دل میں رائی برابر غرور ہوگا وہ غرور لے کر جنت میں نہ جائے گا پہلے رب تعالٰی اس کے دل سے تکبر دور کردے گا پھر اسے جنت میں داخل فرمائے گا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَنَزَعْنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِهِمۡ مِّنْ غِلٍّ اِخْوٰنًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5107