Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5121

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ خَزَنَ لِسَانَهٗ سَتَرَ اللّٰهُ عَوْرَتَهٗ وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهٗ كَفَّ اللّٰهُ عَنْهُ عَذَابَهٗ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللّٰهِ قَبِلَ اللّٰهُ عُذْرَهٗ»

وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من خزن لسانه ستر الله عورته ومن كف غضبه كف الله عنه عذابه يوم القيامة ومن اعتذر إلى الله قبل الله عذره»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اپنی زبان کی حفاظت کرے الله تعالٰی اس کے عیب چھپالے گا ۱∞؎اور جو اپنا غصہ روکے الله تعالٰی اس سے قیامت کے دن اپنا عذاب روک لے گا ۲؎اور جو الله تعالٰی کی بارگاہ میں معذرت کرے الله تعالٰی اس کے عذر قبول کرلے گا۳؎

شرح حدیث

۱∞؎اس فرمان کے دو۲ مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو اپنی زبان سے لوگوں کے عیوب بیان نہ کرے اوروں کے عیوب چھپاوے تو الله تعالٰی اس کے عیوب دنیا و آخرت میں چھپادے گا۔دوسرے یہ کہ اکثر خاموش رہے تو اس کے عیوب چھپے رہیں گے،عیب و ہنر زبان سے ہی ظاہر ہوتے ہیں۔شعر
تامرد سخن نہ گفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد
۲
؎یعنی اس پر غضب نہ فرمائے گا جیسا عمل ویسا بدلہ۔
۳
؎اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جو الله کے لیے دوسرے مجرموں کے عذر قبول کرکے انہیں معافی دے دے گا رب تعالٰی اس کی توبہ قبول فرمائے گا اس کو معافی دے گا۔دوسرے یہ کہ بڑے سے بڑا مجرم اگر توبہ کرے تو بخش دیاجاوے گا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5121