Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5108

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهٖ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ كِبْرٍ . فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَّكُونَ ثَوْبهٗ حَسَنًا وَنَعْلُهٗ حَسَنًا.قَالَ: إِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰى جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ. الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ وَغَمْطُ النَّاسِ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر . فقال رجل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنا.قال: إن الله تعالى جميل يحب الجمال. الكبر بطر الحق وغمط الناس . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جنت میں وہ نہ جاوے گا جس کے دل میں ذرہ برابر غرور ہو ۱∞؎تو ایک شخص نے عرض کیا کہ کوئی شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اس کا جوتا اچھا ہو۲؎فرمایا کہ الله تعالٰی جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۳؎غرور حق کو جھٹلانا لوگوں کو ذلیل سمجھنا ہے(مسلم)۴؎

شرح حدیث

۱∞؎اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا۔خیال رہے کہ آگ میں کبروغرور ہے خاک میں عجز و انکساری،دیکھ لو باغ کھیت خاک میں لگتے ہیں آگ میں نہیں لگتے،ایسے ہی ایمان و عرفان کا باغ خاک جیسے عاجز و منکسر دل میں لگتے ہیں آگ جیسے متکبر دل میں نہیں لگتے ہیں۔
۲
؎سائل سمجھا کہ شاید اچھا لباس پہننا بھی غرور میں داخل ہے کہ اس میں اپنی مالداری یا بڑائی کا اظہار ہے اس لیے اس نے یہ سوال کیا،نیز اکثر متکبرین اعلیٰ درجہ کا لباس پہنتے ہیں تو یہ عمدگی لباس متکبرین کی علامت ہے بہرحال سوال بالکل درست ہے۔
۳
؎یعنی رب تعالٰی ذات و صفات میں اچھا ہے،جمیل ہےمخلوق اس کی صفات کی مظہر ہے تو مسلمان کو چاہیے کہ اپنی عادات، صورت،لباس،اعمال اچھے رکھے تاکہ رب تعالٰی کی صفت جمیل کا مظہر بنے،نیز اس لباس میں رب تعالٰی کی نعمت کا اظہار ہے جو محبوب ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَ اَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ"اسے تکبر سے کوئی تعلق نہیں۔
۴
؎یعنی متکبر وہ ہے جو کسی معمولی انسان کی حق بات کو اس لیے جھٹلائے کہ یہ اس آدمی کے منہ سے نکلی ہے اور مساکین کو ذلیل سمجھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5108