- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 6
- اچھی باتوں کا بیان
- حدیث نمبر 5115
باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5115
اچھی باتوں کا بیان - جلد 6
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَخَيَّلَ وَاخْتَالَ وَنَسِيَ الْكَبِيرَ الْمُتَعَالِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ تَجَبَّرَ وَاعْتَدٰى وَنَسِيَ الْجَبَّارَ الْأَعْلٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ سَهٰى وَلَهٰى وَ نَسِيَ الْمَقَابِرَ وَالْبِلٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ عَتٰى وَطَغٰى وَنَسِيَ الْمُبْتَدَأَ وَالْمُنْتَهٰى بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدُّنْيَا بِالدِّينِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ يَخْتِلُ الدِّينَ بِالشُّبَهَاتِ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ طَمَعٌ يَقُودُهٗ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ هَوًى يُضِلُّهٗ بِئْسَ الْعَبْدُ عَبْدٌ رَغَبٌ يُذِلُّهُ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الإِيمَانِ . وَقَالَا: لَيْسَ إِسْنَادُهٗ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ أَيْضًا: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ
وعن أسماء بنت عميس قالت: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بئس العبد عبد تخيل واختال ونسي الكبير المتعال بئس العبد عبد تجبر واعتدى ونسي الجبار الأعلى بئس العبد عبد سهى ولهى و نسي المقابر والبلى بئس العبد عبد عتى وطغى ونسي المبتدأ والمنتهى بئس العبد عبد يختل الدنيا بالدين بئس العبد عبد يختل الدين بالشبهات بئس العبد عبد طمع يقوده بئس العبد عبد هوى يضله بئس العبد عبد رغب يذله رواه الترمذي والبيهقي في شعب الإيمان . وقالا: ليس إسناده بالقوي وقال الترمذي أيضا: هذا حديث غريب
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے فرماتی ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورواکڑ کرے ۱ ∞ ؎اونچی شان والے کو بھول جائے ۲؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو ظلم اور زیادتی کرے ۳؎اور قہار اعلیٰ کو بھول جائے ۴؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو بھول جاوے کھیل میں لگ جاوے اور قبرستان اور گل جانے کو بھول جائے ۵؎برا بندہ وہ بندہ ہے جو غرورکرے اور حد سے بڑھ جائے ۶؎اور اپنی ابتداء و انتہاء کو بھول جاوے۷؎وہ بندہ برا بندہ ہے جو دنیا کو دین کے لیے دھوکہ دے ۸؎وہ بندہ برا بندہ ہےجو شبہات سے دین کو بگاڑ دے ۹؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے ہوس کھینچے پھرے ۱۰؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے نفسانی خواہش گمراہ کردے ۱۱∞؎وہ بندہ برا بندہ ہے جسے خواہشیں ذلیل کر دیں۱۲؎(ترمذی،بیہقی شعب الایمان)اور بیہقی نے کہا کہ اس کی اسناد قوی نہیں ۱۳؎ترمذی نے بھی کہا کہ یہ حدیث غریب ہے۱۴؎
شرح حدیث
۱∞؎تخیلدل کا کام ہے یعنی اپنے کو بڑا جاننا اوراختیالجسم کا کام یعنی چال ڈھال میں اپنی بڑائی ظاہر کرنا۔اختیال کی بہت صورتیں ہیں: فقہاءکرام متکبروں کی رفتار،ان کی گفتار،ان کی بیٹھک،ان کے لباس سے منع فرماتے ہیں۔
۲؎ہمیشہ اپنے سے نیچوں کو دیکھنے سے غرور پیدا ہوتا ہے،اپنے سے اوپر کو دیکھنے سے عجزو انکسار پیدا ہوتا ہے۔جب اپنی شان اچھی معلوم ہو تو الله تعالٰی اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی شان پر نظر کرو گے اپنے کو بہت نیچا پاؤ گے۔
۳؎مظلومین پر زیادتیتجبرہے اور غرباء و مساکین پر زیادتیاعتداءہے یعنی اپنی حد سے آگے بڑھنا۔
۴؎یعنی اسے یہ خیال نہ آوے کہ میرا رب مجھ سے زیادہ قوی اور قادر ہے اگر میں اس کی پکڑ میں آگیا تو کیسے چھوٹوں گا۔
۵؎اپنی حقیقت کو بھول جانا سہو ہے اور غافل کرنے والی چیزوں میں مشغول ہوجانا لہو۔
۶؎جو شخص اپنے انجام کو یاد رکھے توان شاءاللهکبھی غافل نہ ہو۔انجام یاد دلانے والی چیز قبر ہے،یہ گرد و غبار جو نالیوں میں پڑ رہے ہیں صدہا بادشاہ وزراء امراء ہیں جو خاک بن کر اڑتے پھررہے ہیں۔
۷؎یعنی نہ یہ خیال کرے کہ پہلے میں ایک قطرہ ناپاک تھا پھر کمزور بچہ اور آئندہ میں خاک میں مل کر خاک ہوجاؤں گا درمیان کی اس قوت و دولت پر غرورکرنا عقل کی بات نہیں۔شعر
تم شوق سے کالج میں پڑھو،پارک میں پھولو جائز ہے جہازوں میں اڑو یا چرخ پہ جھولو
پر ایک سخن بندہ مسکین کا رکھو یاد الله کو اور اپنی حقیقت کو نہ بھولو
۸؎اس طرح کہ نیکوں کی سی شکل بنائے اچھے اعمال کرکے دکھائے تاکہ لوگ اس کے پھندے میں آجاویں اور وہ ان کو اپنے جال میں لے لے جیساکہ آج کل بہت ہورہا ہے۔یختلبنا ہےختلسے بمعنی دھوکہ دینا،کسی کو فریب میں لے لینا،دنیا سے مراد دنیا والے ہیں۔
۹؎اس طرح کہ وہ غلط تاویلوں سے حرام کھاتا ہو اور اسے حلال ثابت کرنے کی کوشش کرے،بدمعاش ہو مگر صالح بن کر لوگوں کے سامنے آئے اس طرح اپنا دین خراب کرلے۔
۱۰؎یعنی دنیاوی لالچ خدا تعالٰی سے ہٹاکر مخلوق کے دروازوں پر پھرائے ہر جگہ ٹھوکریں کھلائے۔کسی نے امام شاذلی رحمۃ الله علیہ سے پوچھا کہ کیمیا کیا ہے،فرمایا دو باتیں کیمیا ہیں: الله پر نظر،مخلوق سے نا امیدی،قناعت نہ ختم ہونے والی دولت ہے۔الله تعالٰی قناعت نصیب کرے۔(مرقات)۱۱∞؎خواہش نفسانی طمع کا نتیجہ ہے۔طمع اور ہویٰ لازم ملزوم ہیں جب طمع ترقی کر جاتی ہے تو انسان بے دین بھی بن جاتا ہے،حب دنیا ہر برائی کی جڑ ہے۔
۱۲؎یعنی دولت عزت کی غلط خواہش اسے در در پھرائے ٹھوکریں کھلائے۔خیال رکھو کہ دولت،عزت،ایمان، عرفان حضور صلی الله علیہ وسلم کے دامن کرم میں ہے ان کے ہوجاؤ جو مانگو سو پاؤ۔شعر
آنکس کہ درخویش براند آن را کہ بخواند بہ درکس نہ دواند
اگر ہم ان کے ہوجاویں تو دنیا ہماری ہوجاوے۔اعلیٰ حضرت نے فرمایا شعر
ان کے در کا جوا ہوا خلق خدا اس کی ہوئی ان کے در سے جو پھرا الله اس سے پھر گیا
۱۳؎کیونکہ اس کی اسناد میں ہاشم ابن سعید کوفی ہیں انہیں محدثین نے ضعیف مانا ہے مگر یہ حدیث طبرانی، بیہقی،حاکم نے بہت اسنادوں سے روایت کی ہے لہذا یہ حدیث حسن ہے کہ زیادہ اسنادوں سے ضعیف حدیث بھی قوی ہوجاتی ہے۔(مرقات)۱۴؎غرابت صحت کے خلاف نہیں لہذا یہ حدیث غریب بھی ہے صحیح بھی اگر ضعیف بھی ہو تب بھی فضائل اعمال میں قبول ہے۔(مرقاۃ)
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5115