Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5119

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ وَهُوَ عَلَى المِنْبَرِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَوَاضَعُوا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلّٰهِ رَفَعَهُ اللّٰهُ فَهُوَ فِي نَفْسِهٖ صَغِيرٌ وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ عَظِيمٌ وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللّٰهُ فَهُوَ فِي أَعْيُنِ النَّاسِ صَغِيرٌ وَفِي نَفْسِهٖ كَبِيرٌ حَتّٰى لَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِمْ مِنْ كَلْبٍ أَوْ خنزيرٍ»

وعن عمر قال وهو على المنبر: يا أيها الناس تواضعوا فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من تواضع لله رفعه الله فهو في نفسه صغير وفي أعين الناس عظيم ومن تكبر وضعه الله فهو في أعين الناس صغير وفي نفسه كبير حتى لهو أهون عليهم من كلب أو خنزير»

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمر رضی الله عنہ سے آپ نے منبر پر فرمایا ۱∞؎اے لوگو انکساری اختیار کرو ۲؎کیونکہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو الله تعالٰی کے لیے انکسار و عجز کرتا ہے الله اسے اونچا کردیتاہے۳؎تو وہ اپنے دل کا چھوٹا ہوتا ہے اور لوگوں کی نگاہ میں بڑا۴؎اور جوغرورکرتا ہے الله تعالٰی اسے نیچا کردیتا ہے تو وہ لوگوں کی نگاہ میں چھوٹا ہوتا ہے اور اپنے دل میں بڑا۵؎حتی کہ وہ لوگوں کے نزدیک کتے اور سؤر سے زیادہ ذلیل ہوتا ہے ۶؎

شرح حدیث

۱∞؎یعنی آپ نےکسی خاص شخص سے معمولی طریقہ سے نہ کہا بلکہ بہت اہتمام کے ساتھ برسر منبر اعلان فرمایا۔
۲
؎یعنی ہر مسلمان اپنے بھائی مسلمان کے ساتھ نرم رہے،رب تعالٰی مومنوں کی صفت یوں فرماتاہے:"اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ
۳
؎یہ قاعدہ بہت ہی مجرب ہے۔جو کوئی اپنے کو رضا الٰہی کے لیے مسلمانوں کے لیے نرم کردے،ان کے سامنے انکسار سے پیش آئے تو الله تعالٰی لوگوں کے دلوں میں اس کی عزت پیدا فرمادیتا ہے اور اسے بڑی بلندی بخشتا ہے۔
۴
؎حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک دعا تعلیم فرمائی ہے:"اللہم اجعلنی فی نفسی صغیرا وفی اعین الناس کبیرا۔الٰہی مجھے میری اپنی نگاہ میں چھوٹا،لوگوں کی نگاہ میں بڑا بنادے۔حضرات اولیاء الله ہمیشہ اپنے کو عاجز و گنہگار سمجھتے اور لوگ ان کے آستانوں پر پیشانیاں رگڑتے ہیں۔شعر
بہر درش گیتی جبیں فرسودہ است خویشتن راعبدہ فرمودہ است
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ہمیشہ اپنے کو بندہ فرمایا،دنیا ان کے آستانے پر ماتھا ٹیکتی ہے آج حضور کے آستانہ کا غباربھی قیمتی ہے۔
۵
؎جیساکہ آج بھی دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ شیخی کے مارے اکڑے جاتے ہیں،لوگ انہیں گالیاں دیتے ہیں،انہیں برائی سے یاد کرتے ہیں،دیکھ لو ابلیس اپنے آپ کو بہت ہی اونچا سمجھتا ہے مگر دنیا اس پر لعنت و پھٹکارکر رہی ہے،یہ ہے اس فرمان عالی کاظہور۔
۶
؎لوگوں کی نگاہ میں اس کی یہ ذلت اس کی دلیل ہے کہ وہ الله تعالٰی کے ہاں بھی ذلیل ہے مؤمنوں کی نگاہ میں ذلت مردودیت کی دلیل ہے۔خدا کی پناہ!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5119