Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5106

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ ضَعِيْفٍ مُتَضَعَّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللّٰهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُسْتَكْبِرٍ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ) . وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: كُلُّ جَوَّاظٍ زَنِيْمٍ مُتَكَبِّرٍ

وعن حارثة بن وهب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم بأهل الجنة؟ كل ضعيف متضعف لو أقسم على الله لأبره. ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ مستكبر . (متفق عليه) . وفي رواية مسلم: كل جواظ زنيم متكبر

حدیث ترجمہ

حضرت حارثہ ابن وہب سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کیا میں تمہیں جنتی لوگ نہ بتاؤں ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاوے ۱∞؎اگر وہ الله پر قسم کھا جاوے تو الله اس کی قسم پوری کردے ۲؎کیا میں تمہیں آگ والے نہ بتاؤں ہر سخت دل بدکار متکبر۳؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ہر سخت دل حرامی۴؎غرور والا۔

شرح حدیث

۱∞؎یہاںضعیفکے معنی یہ ہیں کہ اس میں تکبر جبر ظلم نہ ہو،یہ مطلب نہیں کہ اس میں طاقت و قوت نہ ہو،الله تعالٰی کو قوی اور طاقتور مسلمان پسند ہیں یعنی اس میں طاقت تو ہو مگر وہ اپنی طاقت مسلمانوں پر استعمال نہ کرے اورمتضعفکے معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کو اس پر امن ہو کہ یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا،اس کے شر سے مسلمان اپنے کو محفوظ سمجھیں،یہ مطلب نہیں کہ مسلمان اسے ذلیل و خوار سمجھیں،مسلمان بڑی عزت والا ہوتا ہے۔اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سے ہوتی ہے"اَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ اَعِزَّۃٍ عَلَی الْکٰفِرِیۡنَ
۲
؎مثلًا اگر وہ کہہ دے کہ قسم خدا کی تیرے بیٹا ہوگا یا قسم خدا کی آج بارش آوے گی یا قسم خداکی اس اسلامی لشکر کو فتح ہوگی تو اللہ تعالی اس کی قسم ضرور پوری فرماوے، ضرور اس کے بیٹا ہو، ضرورآج بارش آوے، ضرور لشکر اسلام کو فتح ہو۔خیال رہے کہ پہلے تو بندہ الله تعالٰی کی رضا چاہتا ہے پھر ایک وقت وہ آتا ہے کہ الله تعالٰی بندے کی رضا چاہتا ہے۔حضرت صدیق اکبر کے متعلق فرمایا:"وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی"اور اپنے محبوب صلی الله علیہ وسلم کے لیے فرمایا:"وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡكَ رَبُّكَ فَتَرْضٰی"۔معلوم ہوا کہ بزرگوں سے الله کی نعمتیں مانگنا جائز ہے کہ ان کے منہ سے نکلی بات الله تعالٰی پوری کرتا ہے۔
۳
؎عتلکے بہت معنی ہیں: سخت دل،بدزبان،جھگڑالو،یوں ہیجواظکے بہت معنی ہیں: موٹا فربہ، بدکار، فاسق بخیل جو اپنا مال چھپائے دوسروں کے مال پر نظر رکھے۔(مرقات)یہاں سارے معنی درست ہیں۔
۴
؎زنیمبنا ہےزنمسے یعنی کان کٹی بکری جس کا کان کٹ کر لٹک رہا ہو۔اصطلاح میںزنیمحرامی کو کہتے ہیں کہ یہ شخص بھی دوسری قوم سے ملحق ہوتاہے جیسے ولید بن مغیرہ،یہاںزنیمبمعنی شریر ولئیم ہے جس کے شر سے مسلمان پریشان ہوں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ حرامی بچے بڑے شریر و خبیث ہوتے ہیں۔ (مرقاۃ)بعض لوگ کہتے ہیں کہ حرامی جنت میں نہیں جاوے گا اس کی کوئی اصل نہیں،ہاں جو حرامیوں کے سے کام کرے وہ جنت میں اوّلًا نہ جاوے گا۔(ازمرقات)علماء فرماتے ہیں کہ حرامیوں کی نسل میں کوئی ولی نہیں ہوتا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5106