Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5117

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهٖ تَعَالٰى: (ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ) قَالَ: الصَّبْرُ عِنْدَ الْغَضَبِ وَالْعَفْوُ عِنْدَ الْإِسَاءَةِ فَإِذَا فَعَلُوا عَصَمَهُمُ اللّٰهُ وَخَضَعَ لَهُمْ عَدُوُّهُمْ كَأَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيمٌ قَرِيبٌ. رَوَاهُ البُخَارِيُّ تَعْلِيقًا

وعن ابن عباس في قوله تعالى: (ادفع بالتي هي أحسن) قال: الصبر عند الغضب والعفو عند الإساءة فإذا فعلوا عصمهم الله وخضع لهم عدوهم كأنه ولي حميم قريب. رواه البخاري تعليقا

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے الله تعالٰی کے اس فرمان کے متعلق کہ بھلائی کے ذریعہ دفع کرو،فرمایا وہ بھلائی کے غصہ کے وقت صبر ہے اور برائی کے وقت معافی ہے ۱∞؎لوگ جب کریں گے تو الله تعالٰی ان کی حفاظت فرمائے گا اور ان کا دشمن ان کے سامنے پست ہوجاوے گا گویا وہ قریبی دوست ہے۲؎(بخاری تعلیقًا)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اس آیت کریمہ میںاحسنسے مراد صبرکرنا ہے،چونکہ صبرکرنا بدلہ لینے سے اچھا ہے اس لیے اسےاحسنفرمایا گیا،نیز لوگوں کی برائی کو معاف کردینا سزا دینے سے افضل ہے اس لیے اسے بھیاحسنکہا گیامگر یہ اچھائی اپنے ذاتی معاملات کےمتعلق ہے۔دینی قومی ملکی جرم کرنے والوں کو ہرگز معافی نہ دی جاوے، انہیں ضرور سزا دی جائے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ حضور انور نے چورکو معاف نہ فرمایا۔
۲
؎یعنی ایسی معافی سے الله تعالٰی اسے اس کے احباب کو لوگوں کے شر سے بچائے گا اور اس کی عزت بڑھائے گا۔دیکھ لو یوسف علیہ السلام نے اپنے مجرم بھائیوں کو،حضور صلی الله علیہ وسلم نے اپنے مجرموں کو معافیاں دیں تو اب تک اس کی دھوم مچی ہوئی ہے اور وہ لوگ ان کے تابعدار بن گئے،اخلاقی معافی اعلیٰ چیز ہے مجبوری کی معافی بری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5117