Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5109

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ . وَفِي رِوَايَةٍ: "وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: شَيْخٌ زَانٍ وَمَلِكٌ كَذَّابٌ وَعَائِلٌ مُسْتَكْبِرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا يزكيهم . وفي رواية: "ولا ينظر إليهم ولهم عذاب أليم: شيخ زان وملك كذاب وعائل مستكبر ". رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن الله تعالٰی نہ کلام کرے گا ۱∞؎اور نہ انہیں پاک کرے گا۲؎اور ایک روایت میں ہےکہ نہ ان کی طرف نظر کرے گا ۳؎اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے بڈھا زانی ۴؎اور جھوٹا بادشاہ ۵؎اور فقیر غرور والا ۶؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان تین قسم کے لوگوں سے کرم و محبت کا کلام نہ کرے گا غضب و قہر کا کلام کرے گا لہذا حدیث واضح ہے یا یہ مطلب ہے کہ قیامت کے اول وقت جب عدل الٰہی کا ظہور ہوگا تب ان سے کلام نہ کرے گا یا مطلقًا بلا واسطہ کلام نہ کرے گا بواسطہ فرشتوں کے کرے گا۔(مرقات)۲؎یعنی ان کے گناہ معاف نہ کرے گا یا ان کی صفائی لوگوں پر ظاہر نہ کرے گا،تزکیہ کے یہ دونوں معنی ہی آتے ہیں۔
۳
؎یعنی نظر رحمت نہ کرے گا نظر قہر کرے گا۔
۴
؎اس لیے کہ زنا اگرچہ بہرحال برا ہے سخت گناہ ہے مگر بڈھا آدمی کرے تو بدترین گناہ ہے کہ اس کی شہوت قریبًا ختم ہوچکی ہے وہ مغلوب و مجبور نہیں جوان آدمی گویا معذور ہے۔(مرقات)۵؎کیونکہ بعض لوگ مجبورًا جھوٹ بولتے ہیں، بعض لوگ حاکم کے ڈر یا بادشاہ کے خوف سے جھوٹ بول دیتے ہیں،بعض لوگ تنگدستی سے تنگ آکر جھوٹ کے ذریعے روزی کماتے ہیں بادشاہ کو ان میں سے کوئی مجبوری نہیں وہ جھوٹ بولتا ہےتو بلاوجہ ہی بولتا ہے۔
۶
؎حکومت والوں مال والوں کے پاس غرورتکبر کے اسباب موجود ہیں۔اگر فقیر غرور کرے تو محض دلی خباثت کی وجہ سے ہی کرے گا اس لیے اسکا تکبر بدترین جرم ہے،بعض لوگ غریب ہوتے ہوئے معمولی نوکری معمولی کام نہیں کرتے زکوۃ و خیرات قبول نہیں کرتے،خود بھی بھوکے رہتے ہیں اور اپنے بال بچوں کو بھی بھوکا مارتے ہیں وہ بھی اس وعید میں داخل ہیں،بعض لوگ بہت غریب ہوتے ہیں مگر اپنی لڑکیوں لڑکوں کے لیے بڑے مالدار رشتے تلاش کرتے ہیں اس تلاش میں اولاد بوڑھی ہوجاتی ہے مگر شادی نہیں کرتے جس کے نتیجے بہت برے ظاہر ہوتے ہیں یہ سب اس فرمان عالی میں داخل ہیں۔درود ہو اس حکیم مطلق محبوب کبریا صلی الله علیہ وسلم پر جو ہم پر ہمارے ماں باپ بلکہ خود ہم سے زیادہ مہربان ہیں۔الله تعالٰی ان کی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائے،اس ایک کلمہ میں کیسی ہدایتیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5109