Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5105

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ الشَّدِيدُ بِالصُّرَعَةِ إِنَّمَا الشَّدِيدُ الَّذِي يَمْلِكُ نَفْسَهٗ عِنْدَ الْغَضَبِ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ کوئی شخص کشتی سے پہلوان نہیں ہوتا ۱∞؎پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے کو قابو میں رکھے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎کیونکہ یہ جسمانی پہلوانی فانی ہے اس کا اعتبار نہیں دو دن کے بخار میں پہلوانی ختم ہوجاتی ہے۔
۲
؎کیونکہ غصہ نفس کی طرف سے ہوتا ہے اور نفس ہمارا بدترین دشمن ہے،اس کا مقابلہ کرنا،اسے پچھاڑ دینا بڑی بہادری کا کام ہے،نیز نفس قوت روحانی سے مغلوب ہوتا ہے اور آدمی قوت جسمانی سے پچھاڑا جاتا ہے، قوت روحانی قوت جسمانی سے اعلیٰ و افضل ہے لہذا اپنے نفس پر قابو پانے والا بڑا بہادر پہلوان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5105