Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5113

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَطِيَّةَ بْنِ عُرْوَةَ السَّعْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْغَضَبَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ الشَّيْطَانَ خُلِقَ مِنَ النَّارِ وَإِنَّمَا يُطْفَأُ النَّارُ بِالْمَاءِ فَإِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَوَضَّأْ» . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ

وعن عطية بن عروة السعدي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الغضب من الشيطان وإن الشيطان خلق من النار وإنما يطفأ النار بالماء فإذا غضب أحدكم فليتوضأ» . رواه أبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عطیہ ابن عروہ سعدی سے ۱∞؎فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے ۲؎اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے۳؎اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے تو تم میں سے کسی کو جب غصہ آئے تو وہ وضو کرے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،قبیلہ بنی سعد سے ہیں مگر آپ کے حالات قطعًا معلوم نہ ہوسکے۔
۲
؎یہاں غصہ سے مراد شیطانی نفسانی غصہ ہے،ایمانی رحمانی غصہ مراد نہیں۔مسلمان غازی کو کافروں پر جو غصہ آوے وہ غصہ عبادت ہے جس پر ثواب ہے مگر اکثر شیطانی اور رحمانی غصہ میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے،ہم غلطی سے شیطانی غصہ کو رحمانی سمجھ لیتے ہیں۔
۳
؎شیطان کی پیدائش کے متعلق قرآن کریم میں خود اس مردود کا قول موجود ہے"خَلَقْتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ"۔اس آیت و حدیث سے معلوم ہوا کہ ابلیس جن ہے فرشتہ نہیں کہ فرشتوں کی پیدائش نور سے ہے ابلیس کی خلقت میں آگ کا غلبہ ہے جیسے انسان کی خلقت میں مٹی خاک کا غلبہ ہے اس لیے اسے ناری نہیں خاکی کہا جاتا ہے۔
۴
؎یعنی جیسے حسی آگ حسی پانی سے بجھائی جاتی ہے ایسے ہی باطنی آگ باطنی پانی سے بجھائی جاوے۔وضو دونوں سے مرکب ہے کہ اس میں حسی پانی کا استعمال ہے اور یہ جسم و دل اور روح کی پاکی کا ذریعہ ہے اسی لیے غصہ کی آگ وضو سے بجھتی ہے یہ ماہ نبوی طب کا نسخہ مجرب ہے جس سے یونانی طبیب بے خبر ہیں۔شعر
چند خوانی حکمت یونانیاں حکمت ایمانیاں راہم بخواں
حضور انور صلی الله علیہ وسلم نے غصہ کے اور بھی علاج بیان فرمائے ہیں مثلًا
لاحولشریف پڑھنا،اعوذ باللهپڑھنا،مثلًا قرآن کریم فرماتاہے:"وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ"یعنی جب تمہیں شیطان کا اثر پہنچے تواعوذ باللهپڑھو یہ غصہ بھی شیطانی اثر ہے۔یہ بہرحاللاحولاوراعوذقولی علاج ہے اور وضو عملی علاج ہے،ٹھنڈا پانی پی لینا بھی غصہ کا علاج ہے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5113