Main Icon

باب:غصہ اورغرور کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 5112

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ جَدِّهٖ عَنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُحْشُرُ الْمُتَكَبِّرُونَ أَمْثَالَ الذَّرِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي صُوَرِ الرِّجَالِ يَغْشَاهُمُ الذُّلُّ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ يُسَاقُونَ إِلٰى سِجْنٍ فِي جَهَنَّمَ يُسَمّٰى: بُولَسُ تَعْلُوهُمْ نَارُ الْأَنْيَارِ يُسْقَوْنَ مِنْ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ طِينَةَ الْخَبَالِ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " يحشر المتكبرون أمثال الذر يوم القيامة في صور الرجال يغشاهم الذل من كل مكان يساقون إلى سجن في جهنم يسمى: بولس تعلوهم نار الأنيار يسقون من عصارة أهل النار طينة الخبال ". رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے عمرو بن شعب سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ متکبر لوگ قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح جمع کیے جائیں گے مردوں کی صورت میں جنہیں ہر جگہ سے ذلت چھا جائے گی ۱∞؎ہانکے جائیں گے دوزخ کے ایک قید خانہ کی طرف جسے بولس کہا جاتا ہے ۲؎ان پر آگوں کی آگ چھا جائے گی۳؎اور وہ دوزخیوں کی پیپ یعنی طینہ سے پلائے جائیں گے۴؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ان کی شکل و صورت بھی حقیر،ان کی حالت بھی زار و خوار جیسے دنیا میں چونٹیوں کی کوئی قدرومنزلت نہیں ایسے ہی آخرت میں انکی کوئی منزلت نہ ہوگی،دنیا کی عزتیں وہاں ذلت بن جاویں گی،دنیاوی محبتیں وہاں عداوتوں میں تبدیل ہوجاویں گی،رب فرماتاہے:"اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَئِذٍۭ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیۡنَ
۲
؎خیال رہے کہ تمام انسان قبروں سے بشکل انسانی اٹھیں گے ،پھر محشر میں پہنچ کر بعض کی صورتیں مسخ ہوجائیں گی یہاں بھی ان لوگوں کا چیونٹیوں کی شکل میں ہونا محشر میں پہنچ کر ہی ہوگا۔(مرقات)دوزخ میں لوگوں کی صورتیں مختلف ہوں گی۔چنانچہ بعض دوزخی کتوں کی شکل میں ہوں گے،بعض سؤروں اور گدھوں کی شکل میں،نیز بعض جنتی دنیا میں کانے اور اندھے تھے مگر وہاں سب آنکھوں والے حسین ہوں گے۔بولسبنا ہےبلسسے یعنی یاس و نا امیدی کیونکہ وہاں سے نکلنے کی امید نہ ہوگی اس لیے اس مقام کا نامبولسہے۔
۳
؎یعنی جیسے پانی میں ڈوبنے والا ہر طرف سے پانی میں گھرا ہوتا ہے ایسے ہی یہ لوگ آگ کے سمندر میں ڈوبے ہوں گے،ہر طرف سے آگ ہوگی اور اس آگ میں تمام مختلف آگوں کی گرمی جمع کردی گئی ہوگی اسے آگوں کی آگ فرمایا گیا۔
۴
؎اس طرح کہ ان غصہ اور متکبرین کو جہنم کے نچلے طبقہ اسفل السافلین میں رکھا جاوے گا جہاں تمام دوزخیوں کا خون پیپ کچ لہو بہ کر آتا رہے گا،انہیں وہ پلایا جائے گا،اس گندگی کا نام طینۃ الخبال ہے۔خبال بمعنی فساد،طینہ بمعنی بدبودار نچوڑ،یہ نہایت ہی گرم بہت بدبودار،گاڑھا گاڑھا ہوگا،سخت بدمزہ جسے دیکھ کر قے آوے،دل گھبرائے مگر پیاس و بھوک کے غلبہ سے کھانا پڑے گا۔خدا کی پناہ!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 5112