Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3530

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ: بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ: عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ: "الرِّجْلُ جُبَارٌ" ذُكرَ فِي "بَابِ الْغَصَب".

وعن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "لجهنم سبعة أبواب: باب منها لمن سل السيف على أمتي أو قال: على أمة محمد". رواه الترمذي، وقال: هذا حديث غريب. وحديث أبي هريرة: "الرجل جبار" ذكر في "باب الغصب".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا دوزخ کے سات دروازے ہیں ۱؎ان میں سے ایک دروازہ اس کے لیے ہے جو میری امت پر تلوار سونتے ۲؎یا فرمایا محمدمصطفی کی امت پر(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور ابو ہریرہ کی حدیث کہ پاؤں ۳؎ساقط ہےباب الغصبمیں ذکر کی گئی ۴؎

شرح حدیث

۱∞؎قرآن کریم فرماتاہے:"لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوٰبٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوۡمٌ"دوزخ کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے مجرموں کی خاص جماعت ہے لہذا یہ حديث اس قرآنی آیت سے مؤید ہے اور نہایت درست ہے۔
۲
؎یعنی ظلمًا قتل کرنے کے لیے کسی مسلمان پر تلوار اٹھائے اور یہ دروازہ بمقابلہ دوسرے دروازوں کے زیادہ خطرناک ہوگا کہ یہ جرم بھی سخت ہے۔
۳
؎کہ اگر کسی کا گدھا یا گھوڑا کسی کو لات مار کر زخمی یا ہلاک کردے تو گھوڑے گدھے کے مالک پر تاوان نہیں،یوں ہی اگر کسی کی گائے بھینس سینگ مارکر زخمی کردے اس کا بھی یہ ہی حکم ہے اور اگر کسی کا کتا کسی کو کاٹ کر زخمی کردے تو اس کا یہ حکم نہ ہونا چاہیے کیونکہ بلاضرورت کتا پالنا ہی ممنوع ہے اور ایسے ظالم کتے کو آزاد چھوڑنا سخت ہے،ضرورۃً کتا پالا جائے تو اسے باندھ کر رکھے۔واﷲ ورسولہ اعلم!۴؎یعنی مصابیح میں وہ حدیث یہاں تھی مگر ہم نے مناسبت کا خیال کرتے ہوئے یہ حدیثباب الغصبمیں بیان کردی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3530