Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3525

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ؛ فَإِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُوْرَتِهِ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا قاتل أحدكم فليجتنب الوجه؛ فإن الله خلق آدم على صورته متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے جب تم میں سے لڑے تو چہرے سے بچے ۱؎کہ اتعالٰی نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کسی کو لڑائی میں چہرے پر نہ مارو اگر چہ کافر سے ہی جہادکرو کہ اسے قتل کردو مگر اس کا چہرہ نہ بگاڑو، اسی لیے فقہاء فرماتے ہیں کہ زانی کے چہرہ پرکوڑا نہ مارو،اپنی اولاد خادم کو قصور پر سزا دو تو چہرے پر نہ مارو۔
۲
؎یعنی اپنی پسندیدہ صورت پر پیدا فرمایا کہ تمام مخلوق میں سے اسے حسین و جمیل بنایا،خود فرماتاہے:"لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسٰنَ فِیۡۤ اَحْسَنِ تَقْوِیۡمٍ"لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اتعالٰی تو صورت سے پاک ہے پھر اس کی صورت کیسی یا یہ اضافت شرف کے لیے ہے جیسےبیت اﷲیاناقۃ اﷲ۔بعض روایات میں ہے کہ اتعالٰی نے آدم علیہ السلام کو صورت رحمان پر پیدا فرمایا،اگر وہ حدیث صحیح ہو تو اس کا مطلب بھی یہ ہی ہوگا۔خیال رہے کہ انسان اتعالٰی کی بڑی کامل مخلوق ہے اسے رب نے سننے دیکھنے بولنے اور سوچنے سمجھنے کی طاقت بخشی،اگر یہ ترقی کرے تو فرشتوں سے افضل ہوجائے اگر نیچے گرے تو ابلیس سے بدترین ہوجائے اور اس کی ساری قوتیں سر اور چہرے میں جمع ہیں اس لیے اس پر مارنے سے منع فرمایا گیا،اسی جگہ مرقات نے بہت نفیس تقریر کی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3525