Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3517

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "إِذَا مَرَّ أَحَدُكُمْ فِي مَسْجِدِنَا وَفِي سُوقِنَا وَمَعَهُ نَبْلٌ،فَلْيُمْسِكْ عَلَى نِصَالِهَا أَنْ يُصِيبَ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْهَا بِشَيْءٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "إذا مر أحدكم في مسجدنا وفي سوقنا ومعه نبل،فليمسك على نصالها أن يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم سے کوئی ہماری مسجد یا ہمارے بازار میں گزرے ۱؎اور اس کے پاس تیر ہوں۲؎اس کے پیکان(نوک)کو تھام لے ۳؎ایسا نہ ہو کہ کسی مسلمان کو اس سے کچھ لگ جائے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مسلمانوں کے بازار یا مسجد سے گزرے جہاں مسلمانوں کا مجمع ہو،مسلمانوں کا ذکر یا تو احترام کے لیے ہے یا کفار حربی کے بازاروں کو نکالنے کے لیے کہ حربی کفار کو زخمی کردینا جائز بلکہ ثواب ہے۔خیال رہے کہ حربی کفار کا اور حکم ہے اور ذمی مستامن کفار کا حکم کچھ اور ہے،یہاں بازارومسجد کا ذکر ہے مگر مراد تمام اجتماعات ہیں جیسے منٰی،عرفات،مزدلفہ،عرس اور میلے وغیرہ۔
۲
؎نبلبمعنی تیر،یہ جمع ہے جس کا واحد کوئی نہیں،سہمکے معنے بھی تیر ہیں جمعسہام۔
۳
؎نصالجمع ہےنصلکی،نصلتیرکی نوک کو کہتے ہیں جس کے نیچے پر ہوتے ہیں یہ نہایت تیز ہوتی ہے یہ ہی شکار وغیرہ کے جسم میں پیوست ہوجاتی ہے،تھام لینے سے مراد ہے اس پر ہاتھ رکھ لینا یا کوئی غلاف وغیرہ چڑھا دینا۔
۴
؎ان یصیبمیںانکے بعدلاپوشیدہ ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رفاہ عام کی چیزوں میں مسلمانوں کو نفع پہنچانے یا مسلمانوں کو نقصان سے بچانے کی نیت کرے اگرچہ دوسری قومیں بھی فائدہ اٹھالیں لہذا مسافر خانہ،ہسپتال،سایہ دار درخت،کنواں وغیرہ ان سب میں یہ ہی نیت ہونی چاہیے گو ان سے نفع سب اٹھائیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3517