Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3520

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا". رَوَاهُ البُخَارِيُّ. وَزَادَ مُسْلِمٌ: "وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا".

وعن ابن عمر وأبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "من حمل علينا السلاح فليس منا". رواه البخاري. وزاد مسلم: "ومن غشنا فليس منا".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر اور ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرماتے ہیں جس نے ہم پر ہتھیار اٹھایا ۱؎وہ ہم میں سے نہیں ۲؎(بخاری)اور مسلم نے یہ زیادہ کیا کہ جو ہم سے ملاوٹ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۳؎

شرح حدیث

۱∞؎ہم سے مراد امت رسو ل اہے،یہ حضور کا کرم کریمانہ ہے کہ مسلمانوں میں اپنے کو شامل فرمایاعلیناجمع ارشاد فرمارہے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور ہتھیار اٹھانے سے مراد مطلقًا اٹھانا ہے خواہ ظلمًا قتل کے لیے خواہ مذاق دل لگی کے طور پر۔
۲
؎یعنی ہماری جماعت سے نہیں یا ہمارے اہل طریقہ و اہل سنت سے نہیں لہذا اس سے کفر مراد نہیں۔
۳
؎ملاوٹ سے مراد ہے یا چیز کا عیب چھپا کر فروخت کردینا یا اصل میں نقل ملا دینا غرضکہ ہر کاروباری دھوکہ مراد ہے۔اورغشنامیں ضمیر متکلم سے مراد سارے مسلمان ہیں اہل عرب یا اہل مدینہ یعنی جس نے مسلمانوں کو یا اہل عرب کو اہل مدینہ کو دھوکہ دیا وہ ہماری جماعت سے نہیں،ترمذی اور احمد نے حضرت عثمان سے روایت کیمن غش العرب لم یدخل فی شفاعتی ولم تنلہ مؤدتیجس نے عرب کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت نہ پائے گا اور اسے میری محبت نہ پہنچے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3520