Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3514

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّهُ سَمعَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَوِ اطَّلَعَ فِي بَيْتِكَ أَحَدٌ، ولمْ تَأذَنْ لَهُ، فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا كَانَ عَلَيْكَ مِنْ جُنَاحٍ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لو اطلع في بيتك أحد، ولم تأذن له، فخذفته بحصاة ففقأت عينه ما كان عليك من جناح". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے کہ انہوں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اگر کوئی تیرے گھر میں جھانکے ۱؎اور تو نے اسے اجازت نہ دی ۲؎پھر تو اسے کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دے تو تجھ پر کوئی گناہ نہیں ۳؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎خواہ دروازے کے جھرونکوں سے یا دیوار پر چڑھ کر یا اونچے مکان والا نیچے مکان والے کو تاکے جھانکے،یہ جملہ ان سب صورتوں کو شامل ہے۔
۲
؎یعنی اگر تو نے اسے گھر میں آنے کی اجازت دے دی بعد اجازت وہ جھانکتا ہے تو وہ مجرم نہیں کہ آنے کی اجازت دیکھنے کی بھی اجازت ہے،اسی طرح اونچے مکان والا نیچے والوں سے اجازت لے کر چڑھا ہے،اگر بغیر اجازت چڑھے تو نیچے والوں کے پردہ کا ضرور خیال رکھے نگاہ نیچے رکھے۔
۳
؎امام شافعی اس حدیث کے ظاہر پرعمل فرماتے ہیں اور اس صورت میں اس کی آنکھ کا ضمان مطلقًا واجب نہیں فرماتے۔بعض امام فرماتے ہیں کہ اگر منع کرنے کے باوجود وہ تاکتا ہے توا س کی آنکھ کا ضمان نہیں،امام اعظم فرماتے ہیں کہ بہرحال ضمان ہے،یہ فرمان عالی تاک جھانک سے سخت ممانعت کے لیے ہے یا اس میں گناہ کی نفی ہے دیت وغیرہ کی نفی نہیں،بہت دفعہ گناہ نہیں ہوتا مگر ضمان ہوجاتا ہے جیسے قتل خطاء قرآن کریم فرماتاہے:"الْعَیۡنَ بِالْعَیۡنِ"معلوم ہوا کہ آنکھ کے عوض آنکھ پھوڑی جائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3514