Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3522

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ هشامَ بنَ حَكِيمٍ مَرَّ بِالشَّامِ عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الأَنْبَاطِ، وَقَدْ أُقِيمُوا فِي الشَّمْسِ وَصُبَّ عَلَى رُؤوسِهِمُ الزَّيْتُ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قِيلَ: يُعَذَّبُونَ فِي الخَراجِ فَقَالَ هِشَامٌ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللّٰهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن هشام بن عروة عن أبيه: أن هشام بن حكيم مر بالشام على أناس من الأنباط، وقد أقيموا في الشمس وصب على رؤوسهم الزيت، فقال: ما هذا؟ قيل: يعذبون في الخراج فقال هشام: أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "إن الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ہشام ابن عروہ سے ۱؎وہ اپنے باپ سے راوی ۲؎کہ ہشام ابن حکیم ۳؎شام میں کچھ کسان آدمیوں پر گزرے ۴؎جو دھوپ میں کھڑے کیے گئے تھے اور ان کو سروں پر تیل ڈالا گیا تھا ۵؎تو آپ نے کہا یہ کیا ہے ؟ کہا گیا یہ لوگ ٹیکس کے بارے میں عذاب دیئے جارہے ہیں تو ہشام نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اصلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ یقینًا اتعالٰی ان لوگوں کو عذاب دے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب دیتے ہیں۔۶؎(مسلم)۷؎

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور تابعی ہیں،حضرت حسین کی شہادت کے سال آپ کی ولادت ہے، ۱۴۶ھ؁ ∞ میں وفات پائی،حضرت عبداابن زبیر اور عبداابن عمر رضی اعنہم سے ملاقات کی ہے۔
۲
؎ان کا نام عروہ ابن زبیر ابن عوام،آپ بھی تابعی ہیں،مدینہ منورہ کے سات فقہاء میں سے آپ بھی ہیں، حضرت اسماء بنت ابوبکر صدیق آپ کی والدہ ہیں حضرت عائشہ صدیقہ کے بھانجے صائم الدھر تھے، ۹۴ھ؁ ∞ میں آپ کی وفات ہوئی۔
۳
؎آپ ہشام ابن حکیم ابن حزام قرشی اسدی ہیں،فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کے والد حکیم ابن حزام ام المؤمنین خدیجۃ الکبریٰ کے بھتیجہ ہیں،ان کی پیدائش خانہ کعبہ میں ہوئی واقعہ فیل سے تیرہ برس قبل،ایک سو بیس سال کی عمر ہوئی، ۵۴ھ؁ ∞ میں وفات پائی،ساٹھ سال کفر میں گزارے اور ساٹھ سال اسلام میں،زمانہ جاہلیت میں آپ نے سو۱۰۰ غلام آزاد کیے۔(مرقات)
۴
؎نبطیانبیطبصرہ اور کوفہ کے درمیان ایک پہاڑ کا نام ہے وہاں کے باشندے عمومًا کسان تھے اس لیے اب ہر کسان کونبطیکہہ دیتے ہیں۔
۵
؎یعنی حاکم نے ان غریبوں کو تیز دھوپ میں کھڑا کرکے ان کے سروں پر گرم تیل ڈالا تھا تاکہ ٹیکس ادا کردیں یا بقیہ ٹیکس دے دیں۔
۶
؎یعنی اب کھولتا پانی،گرم تیل ان سے عذاب دینا حرام ہے کیونکہ یہ عذاب آخرت میں کفار کو رب تعالٰی دے گا کوئی بندہ کسی کو خدا کا عذاب نہ دے۔
۷
؎اس حدیث کو احمد،ابوداؤد،بیہقی نے بھی عیاض ابن حکم سے روایت کیا اور ابوداؤد،ترمذی،حاکم نے حضرت ابن عباس سے روایت فرمایالا تعذبوا بعذاب اﷲکسی کو خدا کا عذاب نہ دو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3522