Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3516

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مُغَفَّلٍ: أَنَّهُ رَأَى رَجُلًا يَخْذِفُ فَقَالَ: لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْخَذْفِ، وَقَالَ: "إِنَّهُ لَا يُصَادُ بِهِ صَيْدٌ، وَلَا يُنْكَأُ بِهِ عَدُوٌّ، وَلَكِنَّهَا قَدْ تَكْسِرُ السِّنَّ وَتَفْقَأُ الْعَيْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عبد الله بن مغفل: أنه رأى رجلا يخذف فقال: لا تخذف فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن الخذف، وقال: "إنه لا يصاد به صيد، ولا ينكأ به عدو، ولكنها قد تكسر السن وتفقأ العين". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبداابن مغفل سے ۱؎کہ انہوں نے ایک شخص کو کنکر پھینکتے دیکھا۲؎تو فرمایا کنکر نہ پھینک کیونکہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کنکر پھینکنے سے منع فرمایااور فرمایا کہ نہ تو اس سے شکار ہوتا ہے نہ دشمن زخمی ہوتا ہے ۳؎لیکن یہ کسی کا دانت توڑ دیتی ہے اور آنکھ پھوڑ دیتی ہے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مزنی ہیں،بیعۃ الرضوان میں شریک تھے اولًا مدینہ منورہ میں رہے پھر بصرہ میں خواجہ حسن بصری اور العالیہ وغیرہم نے آپ سے احادیث لیں، ۶۰ھ؁ ∞ میں وفات پائی۔
۲
؎یعنی یونہی بطور شغل کنکر وغیرہ پھینکتے دیکھا جیساکہ بعض لڑکوں کی عادت ہے۔
۳
؎یعنی یہ کام عبث بھی اور نقصان دہ بھی اس کا فائدہ کوئی نہیں۔
۴
؎لہذامضر ہے اور مضر چیز سے بچنا ضروری ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3516