Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3523

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "يُوشِكُ إِنْ طَالَتْ بِكَ مُدَّةٌ أَنْ تَرَىَ قَوْمًا فِي أَيْدِيهِمْ مِثْلُ أَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَغْدُونَ فِي غَضَبِ اللّٰهِ وَيَرُوحُونَ فِي سَخَطِ اللّٰهِ"، وَفِي رِوَايَةٍ: "وَيَرُوحُونَ فِي لَعْنَةِ اللّٰهِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "يوشك إن طالت بك مدة أن ترى قوما في أيديهم مثل أذناب البقر، يغدون في غضب الله ويروحون في سخط الله"، وفي رواية: "ويروحون في لعنة الله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ قریب ہے اگر تمہاری عمر دراز ہوئی ۱؎تم ایسی قوم دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم جیسی چیز ہوگی۲؎صبح کریں گے اکے غضب میں اور شام کریں گے اکے غضب میں۳؎اور ایک روایت میں ہے کہ شام کریں گے اکی پھٹکار میں ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یہ خطاب یا حضرت ابوہریرہ سے ہے یا کسی اور صحابی سے ہے حضرت ابوہریرہ سن رہے تھے۔
۲
؎یعنی چمڑہ کے کوڑے جس سے وہ لوگوں کو ماریں گے مگر ناحق یا حکام کے دروازوں پر یہ کوڑے لیے بیٹھے ہوں گے تاکہ لوگوں کو مار مار کر وہاں سے ہٹائیں،کسی کو فریاد کرنے کے لیے حکام تک نہ پہنچنے دیں گے۔(مرقات)
۳
؎یعنی ہر وقت اکے غضب میں رہیں گے۔صبح شام وقت کے دو کنارے ہیں ان کناروں کا ذکر فرمایا مراد ہر وقت ہے جیسے آل فرعون کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ہے"اَلنَّارُ یُعْرَضُوۡنَ عَلَیۡہَا غُدُوًّا وَّ عَشِیًّا"ایسا ہی یہاں ہے۔
۴
؎کیونکہ اس قسم کے لوگ دیوانے کتوں کی طرح ہیں جو مخلوق خدا کو ستاتے ہیں لہذا خدا کی لعنت کے مستحق ہوں گے مخلوق کو ستانا رب تعالٰی کی ناراضی کا باعث ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3523