Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3529

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

وعن سعيد بن زيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "من قتل دون دينه فهو شهيد، ومن قتل دون دمه فهو شهيد، ومن قتل دون ماله فهو شهيد، ومن قتل دون أهله فهو شهيد". رواه الترمذي وأبو داود والنسائي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سعید ابن زید سے کہ رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جو اپنے دین کے لیے شہید کیا گیا تو وہ شہید ہے ۱؎اور جو اپنے خون کے لیے قتل کیا گیا تو وہ شہید ہے اور جو اپنے مال کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھر والوں کے لیے قتل کیا گیا وہ شہید ہے ۲؎(ترمذی،ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی کفار نے اس پر یا اس نے کفار پر حملہ کیا اور یہ مارا گیا یا کسی کلمہ گو بے دین سے کسی دینی مسئلہ میں اس سے لڑائی ہوگئی اور یہ مارا گیا تو شہید ہے۔
۲
؎اس طرح کہ کوئی ظالم اسے قتل کرنے یا اس کے گھر والوں کی بے حرمتی کرنے یا اس کا مال چھیننے آیا،یہ شخص اپنی جان،عزت،مال کی حفاظت کے لیے ان کے مقابل ہوا اور مارا گیا تو یہ بھی شہید ہے کہ ظلمًا مارا گیا ہے اور اگر اس نے اس ظالم کو مار ڈالا کیونکہ بغیر قتال اس سے بچنے کی کو ئی صورت نہ تھی تو اس پر اس قتل کی وجہ سے قصاص یا دیت نہیں بلکہ موجودہ حکومتیں ایسی صورت میں بہادری کا انعام دیتی ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3529