Main Icon

باب :ان جرموں کا جن کا ضمان نہیں دیا جاتا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3524

قصاص کابیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا: قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ كَأَذْنَابِ الْبَقَرِ، يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ، وَنِسَاءٌ كاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُؤُوسُهُنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ، لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ، وَلَا يجِدْنَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَتُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ كَذَا وَكَذَا". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : "صنفان من أهل النار لم أرهما: قوم معهم سياط كأذناب البقر، يضربون بها الناس، ونساء كاسيات عاريات مميلات مائلات رؤوسهن كأسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة، ولا يجدن ريحها، وإن ريحها لتوجد من مسيرة كذا وكذا". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دو قسم کے دوزخی لوگ وہ ہیں جنہیں ہم نے دیکھا نہیں ۱؎ایک وہ قوم جن کے ساتھ گائے کی دم کی طرح کوڑے ہوں گے ۲؎جن سے لوگوں کو ماریں گے اور دوسری وہ عورتیں جو پہن کر ننگی ہوں گی ۳؎مائل کرنے والیاں مائل ہونے والیاں ۴؎ان کے سر موٹی اونٹنیوں کے کوہانوں کی طرح ہوں گے ۵؎وہ نہ جنت میں جائیں نہ اس کی ہوا پائیں ۶؎حالانکہ اس کی ہوا اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جاتی ہے ۷؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی ایسےظالم فاسق لوگ ہمارے زمانہ میں پیدا نہ ہوں گے بلکہ ہمارے بعد ہوں گے،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا معجزہ ہے کہ آئندہ ہونے والے لوگوں کے اعمال کی خبر دے رہے ہیں۔
۲
؎ظلمًا ماریں گے حق پر کوڑے مارنا درست ہے،رب تعالٰی کنوارے زانی کے متعلق فرماتاہے:"فَاجْلِدُوۡا کُلَّ وٰحِدٍ مِّنْہُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ"اور پاکدامن عورت کو تہمت لگانے والوں کے متعلق فرماتاہے:"فَاجْلِدُوۡهُمْ ثَمٰنِیۡنَ جَلْدَۃً"۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ وہ ظالم حکام یا ان کے کارندے کوڑھے ساتھ لیے پھریں گے بات بات پر لوگوں کو اس سے مارا کریں گے،کسی نے انہیں سلام نہ کیا یا ان کی تعظیم کے لیے نہ اُٹھا یا ان کے ظلم کی تائید نہ کی اسے بے تحاشہ پیٹ دیا۔خدا کی پناہ!
۳
؎یعنی جسم کا کچھ حصہ لباس سے ڈھکیں گی اور کچھ حصہ ننگا رکھیں گی یا اتنا باریک کپڑا پہنیں گی جس سے جسم ویسے ہی نظر آئے گا یہ دونوں عیوب آج دیکھے جارہے ہیں یا اکی نعمتوں سے ڈھکی ہوں گی شکر سے ننگی یعنی خالی ہوں گی یا زیوروں سے آراستہ تقویٰ سے ننگی ہوگی۔
۴
؎یعنی لوگوں کے دلوں کو اپنی طرف مائل کریں گی اور خود ان کی طرف مائل ہوں گی یا دوپٹہ اپنے سر سے برقعہ اپنے منہ سے ہٹا دیں گی یا اپنی باتوں یا گانے سے لوگوں کو اپنی طرف مائل کریں گی،خود ان کی طرف مائل ہوں گی یہ سب باتیں آج دیکھنے میں آرہی ہیں،قربان ان نگاہوں کے جو قیامت تک کے واقعات دیکھ رہی ہیں،نیچی نظریں کُل کی خبریں۔
۵
؎اس جملہ مبارک کی بہت تفسیریں ہیں بہترتفسیر یہ ہے کہ وہ عورتیں راہ چلتے شرم سے سر نیچا نہ کریں گی بلکہ بے حیائی سے اونچی گردن سر اٹھائے ہرطرف دیکھتی،لوگوں کو گھورتی چلیں گی جیسے اونٹ کے تمام جسم میں کوہان اونچی ہوتی ہے ایسے ہی ان کے سر اونچے رہا کریں گے،یہ حدیث پڑھو اور آج کل کی عورتوں کودیکھو،یہ اس غیب داں محبوب کی غیبی خبریں ہیں۔شعر
ابن مالک کو دی بشارت تاج اے مرے غیب داں ترے صدقہ
۶
؎یہاںلایجدناورلا یدخلنمیں دونوں جماعتیں مراد ہیں کوڑے والے ظالموں کی جماعت اور ان بے حیا عورتوں کی جماعت۔مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں جماعتوں کا خاتمہ ایمان پر ہو بھی گیا تب بھی وہ اولًا جنت میں نہ جائیں گی،وہاں سے دور رہیں گی اپنی ان حرکتوں کی سزا دوزخ میں بھگتیں گی اگرچہ بعد میں ایمان کی وجہ سے جنت میں پہنچ جائیں لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں،یا مطلب یہ ہے کہ جو ان کاموں کو حلال جان کر یہ کرے وہ کافر ہے پھر جنت میں کیسے جائے یا مطلب یہ ہے کہ پاکدامن عورتوں کی طرح اولًا جنت میں نہ جائیں گی۔
۷
؎اتنی اتنی سے مراد بہت دراز مسافت ہے مثلًا سو سال کی راہ یا اس سے بھی زیادہ ان احادیث کو اس باب میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کو بے پردگی کی بنا پر کوئی شرعی حد نہ لگے گی حاکم چاہے تو تعزیر کے طور پر سزا دے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3524