Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1419

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : “مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الْجُمُعَةِ رَكْعَةً فَلْيُصَلِّ إِلَيْهَا أُخْرٰى وَمَنْ فَاتَتْهُ الرَّكْعَتَانِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا” أَو قَالَ: “الظّهْرَ” . رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : “من أدرك من الجمعة ركعة فليصل إليها أخرى ومن فاتته الركعتان فليصل أربعا” أو قال: “الظهر” . رواه الدارقطني

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جو جمعے کی ایک رکعت پالے تو اس کے ساتھ دوسری ملالے اور جس کی دونوں رکعتیں جاتی رہیں وہ چار پڑھے یا فرمایا ظہر پڑھے ۱∞؎(دارقطنی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث امام محمد کی دلیل ہے کہ جسے جمعہ کیالتحیاتملے بلکہ دوسری رکعت کا سجدہ وہ ظہر ادا کرلے،اس نے جمعہ نہیں پایا۔حضرات شیخین کے نزدیک جو سلام سے پہلے مل جائے وہ جمعہ ہی پڑھے،ان کی دلیل وہ حدیث ہے جو صحاح ستہ نے بروایت ابوسلمہ وابوہریرہ نقل کی کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہو تو بھاگتے ہوئے نہ آؤ،اطمینان سے آؤ جو پالو وہ پڑھ لو جو رہ جائے پوری کرلو،اس میں نماز جمعہ وغیرہ سب داخل ہیں۔یہ حدیث اولًا ضعیف ہے جیساکہ امام نووی نے فرمایا اور اگر صحیح بھی ہو تو یہاں دو رکعتوں کے نہ پانے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا کوئی حصہ نہ ملے سلام کے بعد یا سلام کی حالت میں پہنچے۔نوٹ:نماز جمعہ صرف شہر یا اطراف شہرمیں ہوسکتی ہے گاؤں یا جنگل میں ناجائز ہے یہ مسئلہ نہایت معرکہ کا ہے مگر چونکہ اس کےمتعلق کوئی حدیث مشکوٰۃ شریف میں نہیں آئی اس لیئے ہم بھی چھوڑتے ہیں اگر کسی کو شوق ہو تو ہماری کتاب"فتاویٰ نعیمیہ"میں دیکھے جہاں ہم نے قرآن و احادیث سے اس کا نہایت نفیس ثبوت دیا ہے اور مخالفین کے تمام اعتراضات کے نہایت قوی جواب دیئے ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1419