Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1406

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: “إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقَصَرَ خُطْبَتِهٖ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهٖ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَاَقْصِروا الْخُطْبَةَ وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عمار قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “إن طول صلاة الرجل وقصر خطبته مئنة من فقهه فأطيلوا الصلاة واقصروا الخطبة وإن من البيان سحرا” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عمار سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ مرد کا نمازکو لمبا کرنا اور خطبے کو مختصرکرنا اس کے عالم ہونے کی علامت ہے لہذا نماز دراز کرو اور خطبہ مختصر ۱∞؎اور بعض بیان جادو ہیں ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فرض جمعہ خطبہ جمعہ سے بڑے ہوں کیونکہ نمازمقصود ہے،خطبہ اس کے تابع،نیزخطبہ میں خلق سے خطاب ہے اور نماز میں خالق سے عرض و معروض لہذا یہ دراز چاہیئے،مگر خطبہ اتنا مختصربھی نہ ہوکہ اس کی سنتیں رہ جائیں۔۲؎یعنی بعض خطبے اور وعظ دلوں پر جادو سا اثر رکھتے ہیں لہذا اسے دراز نہ کرو تاکہ ریاوفخر پیدا نہ ہویا یہ مطلب ہے کہ بعض بیان جادو کا اثر رکھتے ہیں کہ پڑھنے میں تھوڑے اور اثر میں زیادہ لہذا خطبہ چھوٹا ہومگر مؤثر ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1406