Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1418

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا اسْتَوٰى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَی المِنْبَرِ قَالَ: “اجْلِسُوا” فَسَمِعَ ذٰلِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَجَلَسَ عَلیٰ بَابِ الْمَسْجِدِ فَرَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: “تَعَالَ يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ”رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن جابر قال: لما استوى رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجمعة علی المنبر قال: “اجلسوا” فسمع ذلك ابن مسعود فجلس علی باب المسجد فرآه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: “تعال يا عبد الله بن مسعود”رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت جابرسےفرماتےہیں کہ جمعہ کے دن جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم منبر پرتشریف فرما ہوئے تو فرمایا صاحبو بیٹھ جاؤ ۱∞؎یہ حضرت ابن مسعود نے سن لیا تو آپ مسجد کے دروازے پر ہی بیٹھ گئے انہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا تو فرمایا کہ اےعبد الله ابن مسعود آجاؤ ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎اس وقت بعض حضرات سنتیں پڑھنے کھڑے ہوئے تھے،بعض حضورصلی الله علیہ وسلم کی تشریف آوری پر تعظیمًا کھڑے ہوئے انہیں فرمایا بیٹھ جاؤ۔(مرقاۃ ولمعات)اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بوقت خطبہ سنتیں پڑھنا منع ہیں جیساکہ ہمارا مذہب ہے۔دوسرے یہ کہ مقتدی مسجد میں امام کی تعظیم کے لیئے اس کی آمد کے وقت کھڑے ہوسکتے ہیں کیونکہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے انہیں بیٹھنے کا حکم دیا آئیندہ قیام سے منع نہیں کیا۔تیسرے یہ کہ خطیب کا کھڑا ہونا سنت ہے اورسامعین کا بیٹھنا۔۲؎سُبْحَانَ اللّٰهِ !یہ ہے صحابہ کی اطاعتِ نبی کہ حضرت ابن مسعود مسجد میں داخل ہورہے تھےدروازے پر یہ آواز سنی تو وہیں آپ جوتوں پر بیٹھ گئے تب حضورصلی الله علیہ وسلم نے کرم کریمانہ سے فرمایا کہ ہمارا روئے سخن اور لوگوں سے تھا نہ کہ تم سے۔اس ادب اور اطاعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا میری امت کے حق میں جس چیز سے ابن مسعود راضی اس سے میں راضی۔اسی لیئے ہمارے امام اعظم سراج الامت ابوحنیفہ رضی الله تعالٰی عنہ خلفائے راشدین کے بعد آپ کے قول کو تمام صحابہ کے قول پر ترجیح دیتے ہیں۔صوفیا فرماتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ"تَعَالْ مِنْ صَفِّ النَّعَالِ اِلی مَقَامِ الرِّجَالِحضرت ابن مسعود اس اطاعت کی بنا پر اب تک حبیب تھے اب حضور صلی الله علیہ وسلم کے محبوب ہوگئے،اب تک طالب تھے اب مطلوب ہوگئے۔شعر
ہر کہ او درعشق صادق آمدہ است برسرش معشوق عاشق آمدہ است

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1418