Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1407

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ احْمَرَّتْ عَيْنَاهُ وَعَلَا صَوْتُهٗ وَاشْتَدَّ غَضَبُهٗ حَتّٰى كَأَنَّهٗ مُنْذِرُ جَيْشٍ يَقُوْلُ: “صَبَّحَكُمْ وَمَسَّاكُمْ” وَيَقُولُ: “بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ” . وَيَقْرُنُ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَابَةِ وَالْوُسْطٰى. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خطب احمرت عيناه وعلا صوته واشتد غضبه حتى كأنه منذر جيش يقول: “صبحكم ومساكم” ويقول: “بعثت أنا والساعة كهاتين” . ويقرن بين إصبعيه السبابة والوسطى. رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت جابر سےفرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آوازشریف بلندہوجاتی اور آپ کا غضب سخت ہوجاتا(ایسا معلوم ہوتا) کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فرماتے ہیں کہ صبح کو تم پر آن پڑے گا یا شام کو ۱∞؎اور فرماتےہیں کہ میں اورقیامت اِن دوکی طرح بھیجا گیا ہوں اپنی کلمے اور بیچ کی انگلی کو ملاتے ۲؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضورصلی الله علیہ وسلم کے اپنے قلب شریف پرہوتاتھا جس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں۔تبلیغ وہی مؤثر ہوتی ہے جس کا اثر مبلغ کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلال الٰہی اورعظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہرہوناہے نہ کسی پر ناراض ہونا۔لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت کا لشکر ہے،یعنی موت قریب ہے تیاری کرو،صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔۲؎یعنی جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرے اورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرا دین تاقیامت ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت حصہ گزر چکاتھوڑا باقی ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے،میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سےخبردار ہوں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1407