Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1404

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ النِّدَاءُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَّلَه' إِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ عَلَی المِنْبَرِ عَلیٰ عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ وَكَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَاءِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن السائب بن يزيد قال: كان النداء يوم الجمعة أوله' إذا جلس الإمام علی المنبر علی عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وعمر فلما كان عثمان وكثر الناس زاد النداء الثالث علی الزوراء. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہےحضرت سائب ابن یزیدسے فرماتےہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم ابوبکرصدیق وعمر فاروق کے زمانہ میں جمعہ کی پہلی اذان جب ہوتی تھی جب امام ممبر پربیٹھتا ۱∞؎جب حضرت عثمان کا زمانہ ہوا اورلوگ بڑ ھ گئے تو آپ نے مقام زوراء پرتیسری اذان زیادہ کی۲؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی پہلی اذان خطبے کی ہوتی ہے اور دوسری اذان خطبہ کے بعدیعنی تکبیر۔شریعت میں تکبیرکوبھی اذان کہاجاتاہے اس حدیث کی بنا پربعض لوگوں نے کہا کہ خطبہ کی اذان سےتجارتیں اور دنیاوی کاروبارحرام ہوتےہیں کیونکہ آیت کریمہ"اِذَا نُوۡدِیَ لِلصَّلٰوۃِ"الخ جب نازل ہوئی تو پہلی اذان تھی ہی نہیں۔۲؎زوراءکےمعنی دوربھی ہیں اورٹیڑھا بھی۔اہل عرب کہتے ہیںقَوْسٌ زَوْرَآءُٹیڑھی کمان اور کہتے ہیںاَرْضٌ زَوْرَاءٌدورکی زمین۔یہاں مدینہ منورہ کی وہ جگہ مرادہے جومسجدسے دور اورمسجد کے مقابل سےہٹی ہوئی بازار میں تھی،چونکہ یہ اذان ایجاد کے لحاظ سےتیسری ہے اس لیئے اسے ثالث فرمایا گیا۔ہشام ابن عبدالملک کے زمانہ تک یہ اذان مسجد سے دور ہوتی رہی،ہشام نے اسے داخل مسجدکیا۔(مرقاۃ)اب تک یہی رواج ہے اسی لیئے اس اذان کو حضرت ابن عمر بدعت فرماتے ہیں یعنی بدعت حسنہ۔اس حدیث سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ کی اذان بھی مسجد سے باہر ہو مگر امام کے مقابل کیونکہ جب حضور انورصلی الله علیہ وسلم کے زمانہ میں پہلی اذان تھی ہی نہیں تو اگر یہ اذان بھی تکبیر کی طرح اندرون مسجد آہستہ آہستہ ہوجاتی ہو تو باہر والوں کو نماز کی اطلاع کیسے ہوسکتی تھی۔خیال رہے فتویٰ اس پر ہے کہ تجارتیں اور کاروبار بندکرنا اذان اول پر فرض ہے کیونکہاِذَا نُوۡدِیَمطلق ہے آیت کے معنے یہ ہیں کہ جب جمعہ کی ندا ہوجائے کاروبار چھوڑدو خواہ خطبہ کے وقت ہو یا اس سے پہلے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1404