Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1411

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يخْطب: “إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ وَلَيَتَجَوَّزَ فِيْهِمَا” . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب: “إذا جاء أحدكم يوم الجمعة والإمام يخطب فليركع ركعتين وليتجوز فيهما” . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ جب تم میں سےکوئی جمعہ کے دن اس حال میں آئے کہ امام خطبہ پڑھنا چاہتا ہوتو دو رکعتیں پڑھ لے اور ان میں اختصار کرے ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎ان دو رکعتوں سے مراد تحیۃ المسجد کے نفل ہیں۔یَخْطُبُکے معنی ارادۂ خطبہ ہیں نہ کہ خطبہ پڑھناکیونکہ خطبہ کی حالت میں کلام،وظیفہ،نمازنفل سب حرام ہیں۔چنانچہ مؤطا امام مالک میں حضرت زہری سے مروی ہے کہ امام کا نکلنا نمازکوختم کردیتا ہے اور امام کا بولنا کلام کو بندکردیتا ہے اور ابن ابی شیبہ میں ہے کہ حضرت علی وابن عمر امام کے نکلنے کے بعدنمازوکلام سب مکروہ کہتے تھے،نیز انہی ابن ابی شیبہ نےحضرت عروہ سے روایت کی کہ جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو نمازجائزنہیں،اور امام زہری سے روایت کی کہ جوجمعہ کے دن خطبہ کی حالت میں آئے وہ بیٹھ جائے،نماز نہ پڑھے،امام شافعی و امام احمد نے اس حدیث کی بنا پرفرمایا کہ جمعہ کے دن تحیۃ المسجد واجب ہے اور بحالت خطبہ پڑھی جائیں مگر یہ دلیل کمزو رہے،کیونکہ تحیۃ المسجدجب کبھی بھی واجب نہ ہوئیں تو جمعہ کے دن کیوں واجب ہوں گی،نیز اس معنے سے یہ حدیث ان تمام احادیث کے خلاف ہوجائے گی جو ہم نے عرض کیں،نیز جمہور صحابہ و تابعین اس وقت نفل ناجائز کہتے ہیں،لہذا وہی معنے حدیث کے لیئے جائیں جو ہم نے کیئے تاکہ یہ حدیث نہ آیت قرآنی کے خلاف ہو نہ دیگر احادیث کے۔(ماخذ ازلمعات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1411