Main Icon

باب : خطبہ اور نماز - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1413

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ خُطْبَتَيْنِ كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰى يَفْرُغَ أُرَاهُ الْمُؤَذِّنَ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ ثُمَّ يَجْلِسُ وَلَا يَتَكَلَّمُ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيَخْطُبُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن ابن عمر قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين كان يجلس إذا صعد المنبر حتى يفرغ أراه المؤذن ثم يقوم فيخطب ثم يجلس ولا يتكلم ثم يقوم فيخطب. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم دو خطبے پڑھتے تھے جب منبر پر چڑھتے تو اولًا بیٹھتے تھے ۱∞؎حتی کہ فارغ ہوجاتے یعنی مؤذن،پھر کھڑے ہوتے تو خطبہ پڑھتے پھربیٹھتے اور کلام نہ کرتے پھرکھڑے ہوتے خطبہ پڑھتے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎مکہ معظمہ کے علاوہ اور جگہ حضورصلی الله علیہ وسلم منبر پرخطبہ پڑھتےتھے اور مکہ مکرمہ میں حضور صلی الله علیہ وسلم اور خلفائے راشدین نے دروازہ کعبہ پرخطبہ پڑھا ہے۔وہاں منبر امیرمعاویہ کی ایجادہے جسے صحابہ نے بغیر اعتراض منظور کیا اور جب سے اب تک وہاں بھی خطبہ منبر پر ہی ہو رہا ہے،وہاں منبر پر خطبہ سنتِ امیرمعاویہ ہے۔حضورصلی الله علیہ وسلم کے منبر کی تین سیڑھیاں تھیں اور آپ تیسری پر کھڑے ہوتے تھے،یہی سنت ہے اب تو وہاں منبر کی بہت سیڑھیاں ہیں۔۲؎یہی سنت ہے کہ امام پہلے منبر پر بیٹھے پھر اس کے سینہ کےمقابل خارج مسجدمؤذن اذان کہے،پھر امام کھڑا ہوکر دو خطبے دے جن کے درمیان بیٹھے مگر اس حال میں بھی دنیوی کلام نہ کرے خاموش رہے یا دل میں کوئی قرآنی آیت پڑھے۔مرقات نے فرمایا کہ آج کل جوبادشاہوں کے نام لینے،انہیں عادل کہنے،ان کی تعریفیں کرنے کا خطیبوں میں رواج ہے یہ حرام ہے کیونکہ اب بادشاہ ظالم ہیں اور ظالم کو عادل کہنا کفر ہے اور ان کی تعریفیں کرنا جھوٹ اور خوشامد،حتی کہ بعض امام فرماتے ہیں کہ اب خطیب سے دور بیٹھے تاکہ یہ جھوٹ اور فاسقوں کی تعریف نہ سنے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1413