Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4404

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كانَ يَمْنَعُ أهلَ الْحِلْيَةِ وَالْحَرِيرِ وَيَقُولُ: إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

عن عقبة بن عامر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمنع أهل الحلية والحرير ويقول: إن كنتم تحبون حلية الجنة وحريرها فلا تلبسوها في الدنيا . رواه النسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زیور اور ریشم والوں کو ۱؎منع فرماتے تھے ۲؎اور فرماتے تھے کہ اگر تم جنت کا زیور اور وہاں کا ریشم پسند کرتے ہو تو اسے دنیا میں نہ پہنو ۳؎(نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی امیروں کو جو ہمیشہ ریشم اور سونے کے زیور پہن سکیں۔
۲
؎ہمیشہ ریشم و زیور پہننے سے منع فرماتے تھے کہ نفس اچھے زیور پہننے کا عادی نہ ہوجائے بلکہ چاہیے کہ امیر آدمی بھی کبھی موٹا معمولی لباس پہن لیا کریں،یہ زہد کی تعلیم ہے۔(مرقات)
۳
؎اس کا مطلب بھی وہ ہی ہے کہ یہ چیزیں ہمیشہ نہ پہنو یا یہ ممانعت استحباب کی ہے یعنی ریشم و زیور عورتوں کو نہ پہننا بہتر ہے۔عورت کا اصلی زیور ایمان تقویٰ پاکدامنی عفت ہے،اس سے دائمی عزت ہے۔ امام بغوی نے فرمایا کہ یہ حدیث منسوخ ہے اس کی ناسخ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی وہ حدیث ہےاحل الذھب والحریر للاناث من امتیمیں اپنی امت کی عورتوں کے لیے سونا اور ریشم حلال کرتا ہوں۔و الله اعلم!

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4404