Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4403

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُخْتٍ لِحُذَيْفَة أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تُحَلِّيْنَ بِهٖ ؟ أَمَا إِنَّهٗ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلِّى ذَهَبًا تُظْهِرُهٗ الا عُذِّبَتْ بِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أخت لحذيفة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا معشر النساء أما لكن في الفضة ما تحلين به ؟ أما إنه ليس منكن امرأة تحلى ذهبا تظهره الا عذبت به . رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت حذیفہ کی بہن سے ۱؎کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عورتوں کی جماعت کیا تمہارے پاس چاندی نہیں ہے جس کے زیور پہنو۲؎خیال رکھو کہ تم میں کوئی عورت نہیں جو سونے کا زیور پہنے جسے ظاہر کرے۳؎مگر اسی سے عذاب دی جائے گی۴؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎ان بہن صاحبہ کا نام اور حالات معلوم نہ ہوسکے مگر وہ صحابیہ ہیں اس لیے یہ معلوم نہ ہونا مضر نہیں تمام صحابہ عادل ہیں۔
۲
؎یعنی بے تکلف سونے کا زیور نہ پہنو کہ حیثیت نہ ہو مگر قرض ادھار یا تنگی برداشت کرکے سونا ہی پہنا جائے۔چاندی کے زیور کو حقیر سمجھا جائے یہ نہ کرو لہذا حدیث بالکل واضح ہے،اس احتمال کی تائید اگلا مضمون کررہا ہے۔
۳
؎اجنبی مردوں پر ظاہر کرے کہ اپنا حسن اور زیور دوسروں کو دکھائے یا فخروغرور کے لیے دکھلاوہ کرے یا غریب عورتوں کو فخریہ دکھا کر انہیں دکھ پہنچائے۔آخری دو معنی زیادہ مناسب ہیں کیونکہ اجنبی مردوں کو چاندی کا زیور دکھانا بھی حرام ہے۔عورتیں سونے کا زیور اپنی سہیلیوں کو فخریہ دکھایا کرتی ہیں انہیں حقیر و ذلیل کرنے کے لیے وہ یہاں مراد ہے۔
۴
؎اس فخرواظہار پر عذاب پائے گی نہ کہ صرف زیور پہننے پر لہذا حدیث محکم ہے منسوخ نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4403