Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4401

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهٗ حَلَقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلَقَةً مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهٗ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهٗ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ مِنْ ذَهَبٍ وَلٰكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من أحب أن يحلق حبيبه حلقة من نار فليحلقه حلقة من ذهب ومن أحب أن يطوق حبيبه طوقا من نار فليطوقه طوقا من ذهب ومن أحب أن يسور حبيبه سوارا من نار فليسوره من ذهب ولكن عليكم بالفضة فالعبوا بها» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اپنے پیارے کو آگ کا حلقہ پہنانا چاہے وہ اسے سونے کی بالی پہنادے ۱؎اور جو اپنے پیارے کو آگ کا طوق ڈالنا چاہے ۲؎وہ اسے سونے کا طوق پہنادے ۳؎اور جو چاہے کہ اپنے پیارے کو آگ کے کنگن پہنانا چاہے وہ اسے سونے کے کنگن پہنائے ۴؎لیکن تم چاندی کو پکڑ لو اس سے کھیلو کودو ۵؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎حبیبسے مراد پیارا بیٹا پوتا وغیرہ لڑکے ہیں کیونکہ لڑکیوں کے لیے سونے کے زیور جائز ہیں۔حلقہ میں بالی،چھلا،انگوٹھی،طوق ہار،نیکلس وغیرہ سب ہی شامل ہیں بلکہ اس میں چوڑی کنگن وغیرہ بھی داخل ہیں مگر یہاں گلے کے زیور مراد نہیں کہ ان کا ذکر تو آگے آرہا ہے۔
۲
؎طوق سے مراد گلے کا ہار و گلو بند وغیرہ ہیں۔
۳
؎لہذا اپنے پیارے کو سونے کا ہار نہ پہناؤ۔
۴
؎خیال رہے کہ کسی کو سونے کے زیور پہنانے کا یہ عذاب جب ہے جب کہ پہننے والا اس سے راضی و خوش ہو،چھوٹے نا سمجھ بچوں کو اگر زیور پہنائے گئے تو اس کا عذاب پہنانے والوں کو ہوگا نہ کہ ان بچوں کو کہ وہ تو بالکل بے قصور ہیں،رب تعالیٰ بے قصوروں کو نہیں پکڑتا۔
۵
؎اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں بھی سونا نہ پہنیں صرف چاندی پہنیں تب یہ حدیث منسوخ ہے ان احادیث سے جن میں عورتوں کو سونا پہننے کی اجازت دی گئی ہے اور اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ تم مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتے ہو تو یہ حدیث محکم ہے،اسےبھی کھیل فرمانے سے اشارۃً بتایا کہ چاندی کی انگوٹھی بھی مرد کے لیے بہتر نہیں یہ بھی کھیل کود ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4401