Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4397

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ عَشْرَ خِلَالٍ: الصُّفْرَةَ يَعْنِي الْخَلُوقَ وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَجَرَّ الإِزَارِ وَالتَّخَتُّمَ بِالذَّهَبِ وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ وَالرُّقٰى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ وَعَقْدَ التَّمَائِمِ وَعَزْلَ الْمَاءِ لِغَيْرِ مَحِلِّهٖ وَفَسَادَ الصَّبِيِّ غَيْرَ مُحَرِّمِهٖ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن ابن مسعود قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يكره عشر خلال: الصفرة يعني الخلوق وتغيير الشيب، وجر الإزار والتختم بالذهب والتبرج بالزينة لغير محلها والضرب بالكعاب والرقى إلا بالمعوذات وعقد التمائم وعزل الماء لغير محله وفساد الصبي غير محرمه . رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس خصلتیں ناپسند فرماتے تھے ۱؎زردی یعنی خلوق۲؎سفید بالوں کی تبدیلی۳؎اور تہبند گھسیٹنا۴؎اور سونے کی انگوٹھی پہننا اور غیرمحل پر زینت ظاہرکرنا ۵؎اور پانسے مارنا ۶؎اور دم کرنا سوا معوذات کے۷؎اورتعویذ باندھنا ۸؎اور پانی غیرمحل میں ڈالنا ۹؎اور بچہ کو بگاڑنا اسے حرام نہ فرمایا ۱۰؎(ابوداؤد ،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎خلالبکسر خ جمع ہےخلۃکی بمعنی خصلت و عادت،خصلتکی جمع ہےخصالاورخلتکی جمع ہےخلال۔
۲
؎خلوقایک خوشبو خاص کا نام ہے جس میں زعفران پڑتا ہے یہ پیلا رنگ دیتی ہے اس لیے اس کا استعمال مردوں کے لیے ممنو ع ہے عورتوں کے لیے جائز،بعض احادیث میں خلوق کی اجازت ہے مگر وہ سب احادیث منسوخ ہیں۔
۳
؎یا اس طرح کہ سفید بال اکھیڑ دیئے جائیں یا اس طرح کہ ان میں سیاہ خضاب کیا جائے یہ دونوں کام ممنوع ہیں مرد کو بھی عورت کو بھی۔
۴
؎یعنی تہبند اتنا نیچا رکھنا کہ زمین پر گھسٹے،یہ عمل مردوعورت سب کے لیے ممنوع ہے۔مرد کا تہبند ٹخنہ سے اونچا رہے عورت کا ٹخنہ سے نیچے۔
۵
؎یعنی عورت کا اپنی زینت نامحرم مردوں پر ظاہر کرنا حرام ہے۔یہ فرمان بہت ہی جامع ہے اس سے پردہ کے متعلق بہت احکام مستنبط ہوسکتے ہیں۔
۶
؎کعابجمع ہےکعبکی،کعب نردشیر کھیل کے پانسوں کو کہتے ہیں،یہ کھیل کھیلتے وقت پانسے پھینکے جاتے ہیں۔حق یہ ہے کہ نردشیر کھیل مطلقًا ممنوع ہے خواہ اس میں جوا ہو یا نہ ہو،اگر اس پر مالی ہار جیت ہو تب تو بہت ہی ممنوع ہے کہ کھیل ہے اور جوا بھی ورنہ کھیل ہونے کی وجہ سے ممنوع۔غیرمعتبر کھیل فعل عبث ہونے کی وجہ سے ممنوع ہیں۔
۷
؎معوذات سے مراد سورۂ فلق اور سورۂ ناس ہیں۔سوا سے مراد وہ منتر ہیں جن میں شرکیہ الفاظ ہوں۔ شرکیہ الفاظ سے جھاڑ پھونک حرام ہے۔آیاتِ قرآنیہ اور ماثورہ دعاؤں سے دم درود جائز بلکہ بہتر ہے اور دعائیں جن میں بتوں وغیرہ کا نام نہ ہو شرکیہ کلمات نہ ہوں ان سے دم بھی جائز ہے باقی سے حرام۔
۸
؎یہاں تعویذ سے مراد مشرکین کے تعویذ و گنڈے ہیں جن میں کفریہ الفاظ بتوں کے نام وغیرہ ہوں یہ حرام ہے۔آیات قرآنیہ دعا اسلامیہ سےتعویذ باندھنا حضرات صحابہ کرام سے ثابت ہے جیساکہباب المعوذاتمیں گزر گیا۔تمائمجمع ہےتمیمہکی،تمیمہکے بہت معانی ہیں:جادو،منتر،ٹونہ جانوروں کی ہڈیاں درد آنکھ کے لیے باندھنا اورتعویذ۔(اشعۃ اللمعات)
۹
؎یعنی حرام جگہ منی گرانا،زنا کرنا،لواطت کرنا،جلق سے منی نکالنا،عورت کی دبر میں وطی کرنا یہ سب کام حرام ہیں۔
۱۰
؎یعنی جب بچہ دودھ پیتا ہو تو عورت سے صحبت کرنا اگر اس میں اندیشہ ہو کہ اس سے دودھ بھاری ہوکر بچہ کے لیے مضر ہوگا تو اس سے بچے،یہ کام حرام نہیں اس سے احتیاط بہتر ہے اس لیے فرمایا کہ اسے حرام نہ کیا۔محرمہمیںہکا مرجع یہ آخری عمل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4397