Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4402

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ قُلِّدَتْ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللّٰهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهٗ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ

وعن أسماء بنت يزيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: أيما امرأة تقلدت قلادة من ذهب قلدت في عنقها مثلها من النار يوم القيامة وأيما امرأة جعلت في أذنها خرصا من ذهب جعل الله في أذنها مثله من النار يوم القيامة. رواه أبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت اسماء بنت یزید سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورت سونے کا ہار پہنے گی اس کی گردن میں اسی طرح آگ کا ہار ڈالا جائے گا قیامت کے دن اور جو عورت اپنے کان میں سونے کی بالی ڈالے گی تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے کان میں اسی طرح کی آگ کی بالی ڈالے گا ۱؎(ابوداؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث یا تو منسوخ ہے۔اسلام میں اولًا سونا پہننا عورتوں کو بھی ممنوع تھا یہ حدیث اس وقت کی ہے بعد میں اجازت دی گئی۔یا اس سے وہ سونا مراد ہے جس کی زکوۃ نہ دی جائے گی اگرچہ زکوۃ چاندی کے زیور پر بھی ہے مگر اکثر چاندی کا زیور نصاب کو نہیں پہنچتا،آدھ سیر سے زیادہ چاندی کون عورت پہن سکتی ہے،سونا تو ساڑھے سات تولہ ہو تب بھی زکوۃ لازم ہو جاتی ہے اس لیے خصوصیت سے سونے کا ذکر فرمایا گیا۔خیال رہے کہ مذہب حنفی میں پہننے کے زیوروں پر زکوۃ فرض ہے،امام شافعی کے ہاں اس پر زکوۃ نہیں اس لیے شوافع حضرات اس حدیث کو کراہت تنزیہی پرمحمول کرتے ہیں مگر یہ درست نہیں۔اول تو اس لیے کہ عورتوں کو سونے کا زیور مکروہ تنزیہی بھی نہیں ہے،دوسرے اس لیے کہ مکروہ تنزیہی پر ایسی وعید نہیں ہوتی لہذا اس حدیث کی وہ ہی توجیہیں قوی ہیں جو ہم نے عرض کیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4402