Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4386

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلٰى كِسْرٰى وَقَيْصَرَ وَالنَّجَاشِيِّ فَقِيلَ: إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِخَاتَمٍ فَصَاغَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا حَلْقَةَ فِضَّةٍ نُقِشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيِّ: كَانَ نَقْشُ الْخَاتَمِ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ وَرَسُوْلٌ سَطْرٌ وَالله سَطْرٌ

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم أراد أن يكتب إلى كسرى وقيصر والنجاشي فقيل: إنهم لا يقبلون كتابا إلا بخاتم فصاغ رسول الله صلى الله عليه وسلم خاتما حلقة فضة نقش فيه: محمد رسول الله. رواه مسلم. وفي رواية للبخاري: كان نقش الخاتم ثلاثة أسطر: محمد سطر ورسول سطر والله سطر

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسریٰ قیصر اور نجاشی کوکچھ لکھنا چاہا ۱؎تو عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مہر کے بغیر کوئی تحریر قبول نہیں کرتے ۲؎تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انگوٹھی ڈھلوائی حلقہ چاندی کا تھا جس میں محمد رسول اللہ کندہ کیا گیا ۳؎(مسلم)اور بخاری کی روایت میں ہے کہ انگوٹھی کا نقش تین سطریں تھیں محمد ایک سطر،رسول ایک سطر، اللہ ایک سطر۴؎

شرح حدیث

۱∞؎دعوت اسلام دینے کے لیے فرمان عالیہ،کسریٰ لقب تھا شاہ فارس کا اور قیصر لقب تھا شاہ روم کا اور نجاشی شاہ حبشہ کا،وہ نجاشی جو پہلے ہی اسلام لاچکا تھا اس کا نام اصحمہ تھا،یہ ۶ھ؁∞ میں اسلام لائے اور ۹ھ؁∞ میں ان کی وفات ہوئی،حضور انور نے مدینہ منورہ میں ان کا جنازہ پڑھا ان کے بعد جو نجاشی تخت پر بیٹھا اسے حضور انور نے دعوتِ اسلام دی اس کا نام اس کا اسلام لانا معلوم نہ ہوسکا۔اصحمہ نجاشی کو تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ام حبیبہ کے ساتھ اپنے نکاح کی قبولیت کا فرمان لکھا تھا انہیں دعوتِ اسلام نہ دی گئی تھی۔(مرقات)
۲
؎یعنی ان بادشاہوں کا قانون یہ ہے کہ جس خط پر بھیجنے والے کے نام کی مہر نہ ہو اسے نہ قبول کرتے ہیں نہ سنتے ہیں وہ لوگ دنیاوی وجاہت والوں کے خطوط ہی پڑھتے سنتے ہیں عوام کے نہیں اور ان کے ہاں وجاہت کی علامت مہر ہے۔
۳
؎ان علامات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس انگوٹھی شریف کا صرف حلقہ چاندی کا تھا نگینہ کسی اور چیز کا تھا مگر حضور نے ایسی انگوٹھی بھی پہنی ہے جس کا حلقہ بھی چاندی کا تھا۔
۴
؎اس انگوٹھی کا نگینہ حبشی پتھر کاتھا جس پر صرف یہ ہی عبارت لکھی تھی اس سے زیادہ عبارت نہ تھی۔جن روایات میں ہے کہ حضور کی انگوٹھی کا نقش پورا کلمہ طیبہ تھا وہ ضعیف ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4386