Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4400

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ طَرَفَةَ أَنَّ جَدَّهٗ عَرْفَجَةَ بْنَ أَسْعَدٍ قُطِعَ أَنْفُهٗ يَوْمَ الْكُلَابِ فَاتَّخَذَ أَنْفًا مِنْ وَرِقٍ فَأَنْتَنَ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَّخِذَ أَنْفًا مِنْ ذَهَبٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

وعن عبد الرحمن بن طرفة أن جده عرفجة بن أسعد قطع أنفه يوم الكلاب فاتخذ أنفا من ورق فأنتن عليه فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يتخذ أنفا من ذهب. رواه الترمذي وأبوداود والنسائي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن طرفہ سے کہ ان کے دادا عرفجہ ابن سعد کی ۱؎کلاب کے دن ناک ٹوٹ گئی تو آپ نے چاندی کی ناک بنوالی وہ آپ پر بدبو دینے لگی تو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ سونے کی ناک بنالیں ۲؎(ترمذی، ابو داؤد،نسائی)

شرح حدیث

۱∞؎حق یہ ہے کہ عبدالرحمن اور طرفہ دونوں تابعی ہیں مگر عرفجہ صحابی ہیں،کلابکاف کے پیش سے جبلہ اور شام کے درمیان ایک گھاٹ کا نام ہے اور جبلہ و شام دونوں پہاڑوں کے نام ہیں،یہاں دو دفعہ جہاد ہوئے ہیں،انہیں کلاب اول اور کلاب ثانی کہا جاتا ہے۔
۲
؎اسی حدیث کی بنا پر فقہاء فرماتے ہیں کہ مرد کو سونے کی ناک لگالینا جائز ہے،یوں ہی ہلتے دانت کو سونے کے تار سے باندھ لینا مباح ہے کہ سونے میں میل سے بدبو پیدا نہیں ہوتی۔ہم پہلے بحوالہ شامی عرض کرچکے ہیں کہ پچیس جگہ مرد کو سونے کا استعمال درست ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4400