Main Icon

باب:انگوٹھی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4398

لباس کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ مَوْلَاةً لَهُمْ ذَهَبَتْ بِابْنَةِ الزُّبَيْرِ إِلٰى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَفِي رِجْلِهَا أَجْرَاسٌ فَقَطَعَهَا عُمَرُ وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَعَ كُلِّ جَرَسٍ شَيْطَانٌ» . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ

وعن ابن الزبير: أن مولاة لهم ذهبت بابنة الزبير إلى عمر بن الخطاب وفي رجلها أجراس فقطعها عمر وقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «مع كل جرس شيطان» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن زبیر سے کہ انکی ایک آزاد شدہ لونڈی زبیر کی بیٹی کو عمربن خطاب کے پاس لے گئی حالانکہ ان کے پاؤں میں جھانجن تھے ۱؎تو انہیں حضرت عمر نے توڑ دیا اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ہر جھانجھ کے ساتھ شیطان ہے ۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضرت عبداللہ ابن زبیر کی آزاد کردہ لونڈی ان کی لڑکی کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس لائیں،اس بچی کے پاؤں میں بجنے والے جھانجن تھے۔اجراسجمعجرسکی بمعنیجلاجلیعنی گھنگرو اور اس جیسی آواز دینے والی چیز،اونٹ کے گلے کےگھنگروں اور باز کے پاؤں کے چھلوں کو بھیاجراسیاجلاجلکہتے ہیں۔ہمارے ہندوستان میں بھی پہلے عورتوں میں جھانجن کا رواج تھا۔
۲
؎کیونکہ جھانجن ایک قسم کا باجا ہے اور جہاں باجا ہو وہاں فرشتہ رحمت نہیں ہوتا شیطان ہوتا ہے۔شیطان سے مراد وہ شیطان ہے جو کھیل تماشوں پر مقرر ہے،قرین شیطان تو ہر انسان کے ساتھ رہتا ہے۔انگوٹھی کے باب میں یہ حدیث لانا نہایت ہی موزوں ہے کہ انگوٹھی ایک قسم کا زیور ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4398